data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

باجوڑ: جماعت اسلامی کے نائب امیر اور سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی مولانا وحید گل کے گھر کے باہر بم دھماکا ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، تاہم واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اور مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکا مولانا وحید گل کی رہائش گاہ کے بالکل سامنے پیش آیا، جس سے ان کے گھر کی بیرونی دیوار اور ایک گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے باعث قریبی آبادی میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر سیکورٹی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

مولانا وحید گل نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ اور ان کے اہل خانہ محفوظ رہے اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات علاقے میں خوف پھیلانے اور سیاسی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں، تاہم وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔

انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقاص رفیق کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکے میں دیسی ساختہ بارودی مواد یعنی آئی ای ڈی استعمال کی گئی ہے۔ پولیس نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جب کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ سیکورٹی ادارے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعہ کسی مخصوص سیاسی سرگرمی یا ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم تخریبی کارروائی کارفرما ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا ہے اور مشتبہ افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار