22 بڑے آپریشنز کے بعد کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہوسکے گا، وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سہیل آفریدی نے کہا کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو سکے گا، ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے، مشاورت کی بات کریں تو الزام لگایا جاتا ہے کہ اسمگلروں سے تعلق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہوسکے گا، ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تیرہ کے متاثرین سے ملاقات کے لیے وادی تیرہ کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تیرہ کے عوام کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے، بار بار ناکامی کے باوجود بند کمروں کے فیصلوں سے باز نہیں آیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو سکے گا، ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے، مشاورت کی بات کریں تو الزام لگایا جاتا ہے کہ اسمگلروں سے تعلق ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے مجھے اور میری قوم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں معلوم ہے کہ میرے سینے میں اپنے عوام کے لیے درد ہے، اسی لیے میری سرزمین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری حکومت نے پہلے دن سے امن کے لیے آواز بلند کی، ہم کل بھی آپریشن کے خلاف تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی اس ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ متاثرین کو انہوں نے بتایا کہ میں آپ میں سے ہوں اور مرتے دم تک پہاڑ کی طرح آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا، زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا، آپریشن کا اعلان کر کے عوام کو دکھ اور تکلیف میں جھونک کر بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ متاثرہ عوام کا تحفظ اور عزت اب میری براہ راست ذمہ داری ہے، تیرہ متاثرین کے مسائل میں کسی بھی قسم کی غفلت ناقابل برداشت ہوگی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا تیرہ متاثرین کی مشکلات فوری کم کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہنگامی اقدامات کا حکم دیا اور کہا کہ جگہ جگہ لوگوں کو روکنے اور قطاروں میں تذلیل کروانے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے کے لیے نادرا کے مزید دفاتر ہنگامی بنیادوں پر قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے وعدہ ہے کہ ہم بندوق کو قلم سے بدلیں گے، مستقل اور پائیدار امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متفقہ پالیسی ہی واحد حل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا ضمانت ہے کہ امن قائم آپریشنز کے بعد سہیل آفریدی نے ناکام پالیسی نے کہا کہ انہوں نے کریں تو جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔