27ویں آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کا شاندار آغاز، ایس ٹی زیڈ پویلین اور گلوبل سی آئی ایس او سمٹ مرکزِ نگاہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے سب سے بڑے اور عالمی معیار کے ایونٹ 27ویں آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کا آج لاہور میں باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ تین روزہ یہ عالمی نمائش لاہور ایکسپو سینٹر میں منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ملکی و غیر ملکی ٹیکنالوجی ماہرین، سرمایہ کاروں اور اداروں کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ایونٹ کے دوران اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تعاون سے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) کے قومی پویلین کی رونمائی کی جائے گی۔ اس پویلین میں میڈ اِن پاکستان، پاورڈ بائی پاکستان اور پاکستان کو بطور ابھرتا ہوا ٹیک ڈیسٹینیشن نمایاں انداز میں پیش کیا جائے گا۔
اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں ملک بھر میں 32 اسپیشل ٹیکنالوجی زونز قائم کیے جا چکے ہیں۔ چیف مارکیٹ ڈیولپمنٹ آفیسر ایس ٹی زیڈ اے حمزہ سعید اورکزئی کا کہنا ہے کہ ان زونز میں 200 سے زائد ملکی و غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیاں سرگرم عمل ہیں، جہاں 27 ہزار سے زائد ٹیکنالوجی پروفیشنلز خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کے موقع پر 18 جنوری کو گلوبل سی آئی ایس او سمٹ کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ سمٹ میں امریکی گلوبل سی آئی ایس او کے صدر کی قیادت میں 500 سے زائد عالمی سائبر سیکیورٹی ماہرین اور ٹیکنالوجی لیڈرز شرکت کریں گے، جہاں سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل دفاع اور جدید ٹیک ٹرینڈز پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
ماہرین کے مطابق معرکۂ حق کے دوران سائبر سیکیورٹی کے مؤثر اور کامیاب استعمال نے پاکستان کی ٹیکنالوجی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اعتماد کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے قائم ایس ٹی زیڈ پویلین نہ صرف پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ قومی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کو پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو ملک کو خطے میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انوویشن کا اہم مرکز بنانے کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آئی ٹی سی این ایشیا 2026 ایس ٹی زیڈ
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔