پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں مساجد و علما کو نشانہ بنانے پر سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں مساجد و علما کو نشانہ بنانے پر سخت ردعمل WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے علما، مساجد اور مسجد مینجمنٹ کمیٹیوں کی مبینہ پروفائلنگ کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی اقدام مذہبی امور میں کھلی مداخلت ہے جو مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس کا مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم آبادی کو خوفزدہ کرنا اور انہیں تنہائی میں دھکیلنا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ مذہبی شخصیات سے زبردستی ذاتی کوائف، تصاویر اور مسلکی وابستگیوں کی تفصیلات اکٹھی کرنا منظم ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد نمازیوں میں خوف پھیلانا اور انہیں آزادانہ طور پر اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکنا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدامات قابض بھارتی حکومت کی ہندوتوا نظریے اور اسلاموفوبیا پر مبنی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔ مساجد اور مسلم علما کو براہ راست نشانہ بنانا ان پالیسیوں کے امتیازی اور فرقہ وارانہ کردار کا واضح ثبوت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو بغیر کسی خوف، جبر یا امتیاز کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ پاکستان ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گا اور کشمیریوں کے خلاف مذہبی جبر و عدم برداشت کی تمام صورتوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی مندوب کا عالمی قوانین کے تحت مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے حل پر زور پاکستانی مندوب کا عالمی قوانین کے تحت مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے حل پر زور باجوڑ میں جماعت اسلامی کے نائب امیر کے گھر کے باہر بم دھماکا ایران میں پرامن احتجاج کو صیہونی مسلح دہشت گردی کے ذریعے تشدد میں بدلا گیا،ایرانی وزارت خارجہ پمز میں چوہدری محمد عثمان کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی تعیناتی، پوٹھوہار گروپ کی جانب سے پروقار تقریب فتح جنگ: تحصیلدار چوہدری شفقت محمود کی جرات مندانہ کارروائی، 15 سالہ ناجائز قبضہ ختم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو 2 فروری تک درختوں کی کٹائی سے روک دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔