پمز میں چوہدری محمد عثمان کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی تعیناتی، پوٹھوہار گروپ کی جانب سے پروقار تقریب
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
پمز میں چوہدری محمد عثمان کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی تعیناتی، پوٹھوہار گروپ کی جانب سے پروقار تقریب WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں چوہدری محمد عثمان کی بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی تعیناتی کے موقع پر پوٹھوہار گروپ پمز کی جانب سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پوٹھوہار گروپ کے عہدیداران اور ممبران نے چوہدری محمد عثمان کے دفتر جا کر انہیں مبارکباد پیش کی اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔پوٹھوہار گروپ کے سرپرستِ اعلیٰ راجہ محمد امجد، صدر ملک طاہر محمود اعوان، راجہ رب نواز، رضوان کیانی، تنویر نوشاہی (پریس سیکریٹری)، مسعود قریشی، راجہ کامران اقبال، راجہ فخر عباس، طارق سیالوی، امین الرحمن، راجہ محمد سعید، محمد فاروق سمیت دیگر ممبران اس موقع پر موجود تھے۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے صدر پوٹھوہار گروپ ملک طاہر محمود اعوان نے کہا کہ پمز ایک قومی ادارہ ہے جہاں ملک بھر سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ مریضوں کی خدمت کرنا ہم سب کا فرضِ عین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوٹھوہار کے مریضوں کے ساتھ ساتھ دیگر تمام مریضوں کی خدمت اور ادارے کی نیک نامی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے چوہدری محمد عثمان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز میں نظم و ضبط، سیکیورٹی اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے مثبت اقدامات کریں گے۔
آخر میں چوہدری محمد عثمان نے پوٹھوہار گروپ کے عہدیداران اور ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے اور پمز میں آنے والے مریضوں اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفتح جنگ: تحصیلدار چوہدری شفقت محمود کی جرات مندانہ کارروائی، 15 سالہ ناجائز قبضہ ختم فتح جنگ: تحصیلدار چوہدری شفقت محمود کی جرات مندانہ کارروائی، 15 سالہ ناجائز قبضہ ختم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو 2 فروری تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا سرگودھا میں شدید دھند کے باعث ٹرک نہر میں گر گیا، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے بیٹے کی گاڑی کو حادثہ خاران، دہشتگردوں کا تھانے اور بینکوں پر حملہ، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 12دہشتگرد ہلاک وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کی ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی میں چوہدری محمد عثمان چوہدری محمد عثمان کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔