ایف آئی اے عملے میں اضافے اور پری ڈیپارچر ایپ کے اجرا کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پر ایف آئی اے امیگریشن کی کارکردگی سے متعلق غلط فہمیوں کے حوالے سے ڈی جی ایف آئی اے راجا رفعت مختار نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کا دورہ کیا۔
ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر روزانہ 94 بین الاقوامی پروازوں کی ہینڈلنگ کی جاتی ہے، یومیہ 10 ہزار سے زائد بین الاقوامی مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس ہوتی ہے، مصروف اوقات میں پروازوں کی بیک وقت آمد سے عارضی ہجوم پیدا ہوتا ہے۔
13 جنوری کو ایف آئی اے امیگریشن نے ایک گھنٹے میں 2,400 مسافروں کی کلیئرنس مکمل کرنے کا ریکارڈ بنایا، اسلام آباد ائرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن 3 شفٹوں میں کام کر رہی ہے، روانگی کیلئے 15 اور آمد کیلئے 13 امیگریشن کاؤنٹرز فعال ہیں، موسمی حالات اور تکنیکی خرابیوں کے باعث پروازوں میں تاخیر ہجوم کی وجہ بنتی ہے۔
ڈی جی ایف ائی اے کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے میں اوسطاً 4 مسافر فی منٹ کلیئر کیے گئے، ایف آئی اے اور پی اے اے کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی جاری ہے، اس موقع پر کیو مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ مرحلہ وار ای گیٹس کے نفاذ پر اتفاق ہوچکا ہے۔
ایف آئی اے عملے میں اضافے اور پری ڈیپارچر ایپ کے اجرا کا اعلان بھی کیا گیا، ڈی جی ایف آئی اے نے مسافروں کی رہنمائی کیلئے کیو اسٹاف کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا۔۔۔۔۔
ترجمان کے مطابق کیو مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیاہے، مرحلہ وار ای گیٹس کے نفاذ پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے عملے میں اضافے اور پری ڈیپارچر ایپ کے اجرا کا اعلان کیا گیا جب کہ مسافروں کی رہنمائی کے لیے کیو اسٹاف کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسافروں کی ایف آئی اے کا فیصلہ کیا گیا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔