جنگ کے بعد غزہ کے انتظامات کے لیے ٹونی بلیئر اور امریکی فوجی سربراہ کا تقرر
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
جنگ کے بعد غزہ کے انتظامات کے لیے ٹونی بلیئر اور امریکی فوجی سربراہ کا تقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے بعد غزہ کے انتظامات کے لیے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو ایک اہم کردار دیا ہے اور ایک امریکی فوجی افسر کو نئی قائم ہونے والی سکیورٹی فورس کی قیادت سونپی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے غزہ کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ کے ارکان کا اعلان کیا ہے جس میں اکثریت امریکیوں کی ہے۔
یہ قدم اس وقت اُٹھایا گیا ہے جب غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ماہرین کی کمیٹی نے قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک تھے جو مشرقِ وسطیٰ کے امور میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ پہلے ہی خود کو ’بورڈ آف پیس‘ کا سربراہ قرار دے چکے ہیں اور جمعے کو انہوں نے اس کے تمام ارکان کا اعلان کیا، جن میں ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ اہم امریکی شخصیات شامل ہیں، جیسے جیرڈ کشنر، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور سٹیو وِٹکوف جو ٹرمپ کے کاروباری ساتھی اور عالمی مذاکرات کار ہیں۔
ٹونی بلیئر مشرقِ وسطیٰ میں ایک متنازع شخصیت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے 2003 میں عراق پر حملے میں کردار ادا کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے خود گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ٹونی بلیئر سب کے لیے قابلِ قبول انتخاب ہوں۔
ٹونی بلیئر نے 2007 میں وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور روس پر مشتمل ’مشرقِ وسطیٰ کوارٹیٹ‘ کے نمائندے کے طور پر اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر کئی برس تک کام کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘اُن امور پر کام کرے گا جن میں حکمرانی کی صلاحیت میں اضافہ، علاقائی تعلقات، تعمیرِ نو، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمائے کی فراہمی شامل ہیں۔
بورڈ کے دیگر ارکان میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا، امریکی ارب پتی مالیاتی ماہر مارک روون، اور رابرٹ گیبریل شامل ہیں جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قومی سلامتی کونسل کے رکن ہیں۔
یاد رہے کہ جنگ کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی نے جمعے کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا۔
یہ کمیٹی بدھ کو اس وقت تشکیل دی گئی تھی جب امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا۔ اس کمیٹی میں 15 ٹیکنوکریٹس شامل ہیں جنہیں فلسطینی علاقے میں روزمرہ امور چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلیٰ مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی مہندی کی تقریب، دلہن کون؟ وزیراعلیٰ مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی مہندی کی تقریب، دلہن کون؟ موسم کا نیا سسٹم داخل؛ شدید سردی، بارش اور برفباری کی پیش گوئی گوادر: کراچی سے جیونی جانیوالی مسافر کوچ کو حادثہ، 9 افراد جاں بحق صدر و وزیراعظم کا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی علالت پر اظہار تشویش، جلد صحت یابی کی دعا ٹک ٹاک پرغیراخلاقی مواد شیئر کرنے کے خلاف دائر درخواست پر پی ٹی اے کو نوٹس پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں مساجد و علما کو نشانہ بنانے پر سخت ردعملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنگ کے بعد غزہ ٹونی بلیئر کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔