WE News:
2026-06-02@23:58:51 GMT

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

 

 

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکا نے کم از کم ایک طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے، یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور اشاروں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی پابندیوں کا خوف، بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے جڑے منصوبے ترک کردیے

فاکس نیوز نے نامعلوم امریکی عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے ایک طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ہو سکتا ہے یا ان 2 کیریئرز میں سے ایک، جو حالیہ دنوں میں نورفوک اور سان ڈیاگو سے روانہ ہوئے تھے۔

???????? By order of the US Navy, the USS GEORGE WASHINGTON (CVN-77) aircraft carrier group (the second in a row) has already left Norfolk and is heading to the Mediterranean Sea, from where it will probably move to the Middle East region via the Suez Canal ….

Most likely, it will… pic.twitter.com/RFdpCOUFJk

— The Battlefield (@TTheBattlefield) January 16, 2026

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت امریکا کے 3 ڈسٹرائرز اور 3 لِٹورل کامبیٹ شپ پہلے ہی خطے میں موجود ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں ایران کے گرد امریکی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا فضائی اور زمینی حملہ آور صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ میزائل دفاعی نظام بھی تعینات کر سکتا ہے، جسے عسکری اصطلاح میں فورس سیٹنگ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران دسمبر کے اواخر سے شدید عوامی احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ مہنگائی میں اضافے اور ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں کمی کے باعث شروع ہونے والے مظاہرے بعد ازاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے، جن میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی حکام نے ان مظاہروں کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

???????????????????? BREAKING: US aircraft carrier en route to Middle East.

Source: SCMP

Follow: @RTSG_News pic.twitter.com/OOKOpruCBg

— RTSG News (@RTSG_News) January 15, 2026

اسی تناظر میں این بی سی نیوز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف تیز اور فیصلہ کن کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم طویل جنگ میں الجھنے کے خدشے کے باعث اب تک کسی حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب بعض خلیجی ممالک نے مبینہ طور پر امریکا سے رابطہ کر کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کی اپیل کی ہے، کیونکہ اس سے خطے میں عدم استحکام اور عالمی تیل منڈی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ادھر روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خطے میں تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران طیارہ بردار بحری جہاز

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان