دہشت گردی کے خدشات، سی ٹی ڈی کے پنجاب کے مختلف شہروں میں 425 آپریشنز
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں ایک ماہ کے دوران 425 ائی بی اوز اپریشنز کیے ہیں۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 49 دہشت گرد گرفتار کیے گئے۔
کارروائی لاہور، راولپنڈی، جہلم، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، حافظ اباد ، چکوال ، گجرانوالہ ، ڈی جی خان ، فیصل اباد، ساہیوال ، چنیوٹ ، پاک پتن ، خوشاب ، نارووال ، سیالکوٹ ، اٹک اور وہاڑی میں کی گئی۔
لاہور سے بھارتی دہشت گرد ایجنسی را کا ایجنٹ گرفتار کیا گیا۔ مجتبی سے بارودی مواد اسلحہ اور اہم عمارتوں کے نقشے برامد ہوئے۔ دہشت گردوں سے دھماکہ خیز مواد، ہینڈ گرنیڈ، 2 ای ائی ڈی بم، 6 ڈیٹونیٹر، 36 حفاظتی فیوز وائر، 38 فٹ پمفلیٹ اور نقدی پرائمہ کارڈ برامد ہوا۔
دہشت گردوں کی شناخت شوکت نوید، عبدالرحمن ، امجد خان ،محمد شاہد ،محمد ابرار ،دانش خان، خلیل احمد ،جمیل الرحمن ،احسان اللہ ،نادر ،وقاص ،حسنین، فاروق ،جمشید اور اولاد خان وغیرہ کے نام سے ہوئی۔
دہشت گرد مختلف مقامات پر کارروائی کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے تھے۔ ایک ماہ کے دوران 6131 کومبنگ آپریشنز کے دوران 599 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔ کومبنگ آپریشنز میں 243546 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔