رنویر سنگھ کے فلم چھوڑنے کے بعد شاہ رخ خان کی ڈان 3 میں مشروط واپسی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
بولی ووڈ کی مشہورایکشن فلم فرنچائز ڈان3 ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ اس فلم کو لے کر اس وقت فلمی حلقوں اور شائقین میں خاصی گہما گہمی پائی جارہی ہے۔ اب ایک تازہ رپورٹ نے شائقین کو حیران کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رنویر سنگھ اب ڈان 3 کا حصہ نہیں رہے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں کہ شاہ رخ خان ایک بار پھر اپنے مشہور کردار میں واپسی کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فرحان اختر کی ہدایت کاری میں بننے والی ڈان 3 میں ابتدا میں اعلان کیا گیا تھا کہ رنویر سنگھ مرکزی کردار نبھائیں گے اور وہ اس مشہور کردار کو نئی پہچان دیں گے، جسے پہلے امیتابھ بچن اور بعد میں شاہ رخ خان نے امر کیا۔ تاہم 2025 کے اختتام پر سامنے آنے والی متضاد رپورٹس نے فلم کی کاسٹنگ کو مشکوک بنا دیا۔
رپورٹس کے مطابق شاہ رخ خان ایک بار پھر ڈان کے کردار میں نظر آ سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہوں نے ایک خاص شرط رکھی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ شاہ رخ اسی صورت فلم میں شامل ہونے پر آمادہ ہوں گے اگر فلم ’جوان‘ کے کامیاب ہدایتکار ایٹلی بھی ڈان 3 کے پروجیکٹ سے جڑتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے فلم سازوں کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ شاہ رخ خان نے ڈان 2 میں شاندار اداکاری کی تھی۔ بعد ازاں ڈان 3 کے لیے رنویر سنگھ کا نام سامنے آیا، مگر گزشتہ سال خبریں آئیں کہ انہوں نے یہ فلم چھوڑ دی ہے۔
رنویر سنگھ کے فلم چھوڑنے کی اصل وجہ اب تک واضح نہیں ہو سکی۔ کچھ رپورٹس کے مطابق وہ فلم کی تیاریوں میں شامل تھے اور ایکشن ٹریننگ بھی لے رہے تھے، جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ رنویر اپنی دیگر فلموں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ انہی متضاد اطلاعات نے ڈان 3 کی کہانی کو مزید الجھا دیا ہے۔
کچھ فلمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر شاہ رخ خان واقعی فلم میں واپس آتے ہیں تو ممکن ہے وہ مکمل مرکزی کردار کے بجائے ایک خاص یا کیمیو کردار میں نظر آئیں۔
اس حکمتِ عملی سے ایک طرف ڈان کی پرانی یادوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے گا، جبکہ دوسری جانب کہانی کو نئی نسل سے جوڑنے میں بھی مدد ملے گی۔
فلم کی کاسٹ میں بھی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پہلے خبریں تھیں کہ کیارا اڈوانی، رنویر سنگھ کے مقابل مرکزی کردار ادا کریں گی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ کیارا بھی اس پروجیکٹ سے الگ ہو چکی ہیں۔ اب اطلاعات ہیں کہ ان کی جگہ کریتی سینن کو کاسٹ کیا گیا ہے۔
فلم کے ولن کے کرداروں کے لیے بھی مختلف نام سامنے آئے ہیں ، جس کے لیے وکرانت میسی اور وجے دیوراکونڈا سے رابطہ کیا گیا تھا، لیکن دونوں اداکاروں نے مبینہ طور پر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈان 3 میں ولن کا کردار کون نبھاتا ہے۔
اداکاروں کی بدلتی کاسٹ اور ولن کی تلاش پر جاری بحث نے ڈان 3 کو بولی ووڈ کی سب سے زیادہ زیرِ بحث فلم بنا دیا ہے۔ جب تک فلم سازوں کی جانب سے باضابطہ اعلان سامنے نہیں آتا، شائقین اسی طرح ہر نئی خبر پر نظریں جمائے رکھیں گے۔
یہ طے ہے کہ چاہے شاہ رخ خان مرکزی کردار میں واپس آئیں یا کسی خاص انداز میں نظر آئیں، ڈان 3 بولی ووڈ کی سب سے بڑی فلموں میں شمار کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رنویر سنگھ شاہ رخ خان کے مطابق کیا گیا دیا ہے کے لیے
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین