سپریم کورٹ نے کرشمہ کپور کو نوٹس جاری کر دیا، طلاقی ریکارڈز کی درخواست پر دو ہفتوں میں جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ممبئی(شوبز ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے اداکارہ کرشمہ کپور کو پریا کپور کی جانب سے دائر درخواست پر جواب جمع کرانے کی ہدایت دے دی ہے، جس میں مرحوم سنجے کپور اور کرشمہ کپور کے طلاقی مقدمے کے مصدقہ عدالتی ریکارڈز طلب کیے گئے ہیں۔
پریا کپور نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سنجے کپور کی قانونی اہلیہ اور جائیداد کی وارث ہیں، اس لیے انہیں سنجے کپور اور کرشمہ کپور کے درمیان طلاق سے متعلق ٹرانسفر پٹیشن (سول) نمبر 214/2016 کے مصدقہ ریکارڈز درکار ہیں، جو دہلی ہائی کورٹ میں جاری وراثتی کارروائی کے لیے ضروری ہیں۔
سماعت کے دوران کرشمہ کپور کے وکیل نے درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ، بے بنیاد اور ذاتی و خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواست محض ذاتی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد کرشمہ کپور کو دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ تحریری طور پر اپنے اعتراضات اور تفصیلی جواب جمع کرائیں۔
ادھر سنجے کپور کی بہن مندھرا کپور اسمتھ نے بھی پریا کپور کی درخواست پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بھائی طلاقی دستاویزات کو عوامی بنانا چاہتے تو وہ اپنی زندگی میں ہی ایسا کر سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس معاملے کو اٹھانا غیر ضروری اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔
مندھرا کپور اسمتھ نے اس معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کو خاص طور پر بچوں کے مفاد میں خفیہ رکھا جانا چاہیے۔
پریا کپور کی درخواست کے مطابق سنجے کپور نے 2016 میں ایک ٹرانسفر پٹیشن دائر کی تھی، جس کا مقصد ممبئی کی فیملی کورٹ میں زیر سماعت طلاق کے مقدمے کو دہلی منتقل کرنا تھا۔ سپریم کورٹ نے 8 اپریل 2016 کو کیس کی سماعت کے بعد فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے طے پانے والی شرائط کو ریکارڈ پر لیا تھا۔
واضح رہے کہ سنجے کپور 12 جون 2025 کو انتقال کر گئے تھے، جبکہ پریا کپور کے وکیل کے مطابق 3 اپریل 2017 کو شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے قانونی اور مالی معاملات کو نمٹانے کے عمل میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے کرشمہ کپور پریا کپور سنجے کپور کپور کی کپور کے
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
نوٹس متن کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.