ممبئی(شوبز ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے اداکارہ کرشمہ کپور کو پریا کپور کی جانب سے دائر درخواست پر جواب جمع کرانے کی ہدایت دے دی ہے، جس میں مرحوم سنجے کپور اور کرشمہ کپور کے طلاقی مقدمے کے مصدقہ عدالتی ریکارڈز طلب کیے گئے ہیں۔

پریا کپور نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سنجے کپور کی قانونی اہلیہ اور جائیداد کی وارث ہیں، اس لیے انہیں سنجے کپور اور کرشمہ کپور کے درمیان طلاق سے متعلق ٹرانسفر پٹیشن (سول) نمبر 214/2016 کے مصدقہ ریکارڈز درکار ہیں، جو دہلی ہائی کورٹ میں جاری وراثتی کارروائی کے لیے ضروری ہیں۔

سماعت کے دوران کرشمہ کپور کے وکیل نے درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ، بے بنیاد اور ذاتی و خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواست محض ذاتی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد کرشمہ کپور کو دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ تحریری طور پر اپنے اعتراضات اور تفصیلی جواب جمع کرائیں۔

ادھر سنجے کپور کی بہن مندھرا کپور اسمتھ نے بھی پریا کپور کی درخواست پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بھائی طلاقی دستاویزات کو عوامی بنانا چاہتے تو وہ اپنی زندگی میں ہی ایسا کر سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس معاملے کو اٹھانا غیر ضروری اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔

مندھرا کپور اسمتھ نے اس معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کو خاص طور پر بچوں کے مفاد میں خفیہ رکھا جانا چاہیے۔

پریا کپور کی درخواست کے مطابق سنجے کپور نے 2016 میں ایک ٹرانسفر پٹیشن دائر کی تھی، جس کا مقصد ممبئی کی فیملی کورٹ میں زیر سماعت طلاق کے مقدمے کو دہلی منتقل کرنا تھا۔ سپریم کورٹ نے 8 اپریل 2016 کو کیس کی سماعت کے بعد فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے طے پانے والی شرائط کو ریکارڈ پر لیا تھا۔

واضح رہے کہ سنجے کپور 12 جون 2025 کو انتقال کر گئے تھے، جبکہ پریا کپور کے وکیل کے مطابق 3 اپریل 2017 کو شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے قانونی اور مالی معاملات کو نمٹانے کے عمل میں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے کرشمہ کپور پریا کپور سنجے کپور کپور کی کپور کے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ