کراچی: 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کا ملزم 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
تصویر، اسکرین گریب
کراچی میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے والے گرفتار ملزم کو محمود آباد پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کردیا۔
عدالت نے ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
اس کیس کے تفتیشی افسر کے مطابق مغوی بچے کے شور کرنے پر لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، شک ہے کہ ملزم نے کئی بچوں کو بدفعلی کے بعد قتل کردیا ہو۔
عدالت میں تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم کا 14 دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، ملزم نے ابتدائی تفتیش میں درجنوں بچوں کے ساتھ زیادتی کی کوشش کا اعتراف کیا ہے، ملزم سے مزید تفتیش کرنی ہے اور متاثرہ بچوں کے بیانات ریکارڈ کرنے ہیں۔
عثمان سدوزئی کا بتانا ہے کہ عمران موٹرسائیکل کا بچوں کو لالچ دے کر ساتھ لے جاتا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم عمران پر درجنوں بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے کا الزام ہے، ملزم کو ٹیپو سلطان پولیس نے بچے کو اغوا کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران کئی متاثرہ بچوں نے ملزم کی نشاندہی کی ہے۔ ملزم کے خلاف محمود آباد، ٹیپو سلطان، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پولیس کے بچوں کے ملزم کو
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔