بھانجی سے جنسی زیادتی کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کے دوران عدالت کا اظہار برہمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے بھانجی سے زیادتی کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت پولیس فائل نہ ہونے کے باعث ملتوی کردی۔
ہائیکورٹ میں بھانجی سے زیادتی کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی، ملزم کے وکیل نے زیادتی کا شکار بچی کی والدہ کو عدالت بلا لیا۔ اجازت کے بغیر خاتون کو بلانے پر عدالت برہم ہوگئی۔
عدالت نے وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ زیادتی کا شکار بچی کی والدہ کو بلا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، اپیل کنندہ کے وکیل نے موقف دیا کہ بچی کی والدہ عدالت سے کچھ کہنا چاہتی ہیں، اس لیے عدالت آئی ہیں۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ والدہ خود نہیں آئیں، آپ انہیں پڑھا سکھا کر یہاں لائے ہیں، یہ قتل کا مقدمہ نہیں کہ ورثاء معاف کردیں تو کیس ختم ہو جائے، ماموں کا رشتہ بہت پیارا ہوتا ہے اس اعتماد کو توڑنے والے کو سزا ضرور ملنی چاہئے۔
اپیل کے موقع پر یہ ہتھکنڈے استعمال کرکے آپ کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے، عدالت نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ان خاتون کو تو قانون کا علم نہیں لیکن آپ تو انہیں ایسے استعمال نا کریں۔ پولیس فائل نا ہونے کے باعث سماعت غیر معینہ تک ملتوی کردی۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نصیب گل کو جرم ثابت ہونے پر ماتحت عدالت نے عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
ملزم کیخلاف 2021 میں نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔ طلاق کے بعد بچی کی والدہ پولیو ورکر کے طور پر کام کرنے کے لیے گھر سے نکل جاتی تھیں، ماموں نے بچی سے زیادتی کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دیکر خاموش کروادیا۔
والدہ کے دوسرے نکاح کے بعد بھی ملزم نے مجرمانہ سرگرمی جاری رکھنے کی کوشش کی۔ بچی کی مزاحمت کے نتیجے میں ملزم کیخلاف مقدمہ اور گرفتاری ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بچی کی والدہ ملزم کی کی سزا
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔