پارلیمنٹ میں افواجِ پاکستان، عدلیہ کیخلاف کسی کو بات نہیں کرنے دوں گا، ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
تصویر، اسکرین گریب
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں افواجِ پاکستان اور عدلیہ کیخلاف کسی کو بات نہیں کرنے دوں گا، اپوزیشن لیڈر ٹھیک بات کرتے رہیں گے تو انہیں فلور ملتا رہے گا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ میرا مشورہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ میں آئیں، پارلیمنٹ میں آ کر عوام کی خدمت کا کام کریں، احتجاج پُرامن ہو تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا، میری ذمہ داری ہے کہ کسی کو پاکستان مخالف بات نہ کرنے دوں۔
ایاز صادق نے کہا کہ ملکی معیشت آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے، ترسیلاتِ زر بڑھ رہی ہیں، دنیا کا کونسا ایسا ملک ہے جس سے آج پاکستان کی دوستی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر ملک میں مافیا ہوتی ہیں، ہمارے ملک میں بھی مافیا ہیں، حق اور سچ ان کا راستہ روکتے ہیں۔
اسلام آباد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے.
ایاز صادق بولے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی آج ہے، صرف ہمسایہ ملک سے مسئلہ ہے جو ہمارے بچوں کی جانوں سے کھیلتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اچھی ہو رہی ہے۔ امریکا، چین، روس، سعودی عرب، ترکیہ سے دوستی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واضح کردوں کہ میں وزیراعظم سے مشاورت کرتا ہوں، وہ مجھے کسی چیز سے روکتے نہیں، مشاورت کرنا اچھی بات ہے، جتنے زیادہ لوگوں سے مشاورت کریں وہ بہتر ہے۔
ایاز صادق نے کہا کہ جو ملک دشمن بات کرے گا میں اسے روکوں گا، کہیں نہیں لکھا کہ جب اپوزیشن لیڈر اٹھے تو اسے فلور ملے، وہ ٹھیک بات کریں گے تو فلور ملتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں اور ملک کا نقصان چاہتے ہیں تو کر کے دیکھ لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایاز صادق نے کہا پارلیمنٹ میں نے کہا کہ کسی کو
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :