انڈر 19 ورلڈ کپ: بھارتی اور بنگلہ دیشی کپتانوں کا ہاتھ ملانے سے گریز، کشیدگی کھل کر سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے ایک میچ کے دوران بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان موجود تناؤ اس وقت نمایاں ہو گیا جب دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ٹاس کے موقع پر روایتی مصافحہ نہیں کیا، جسے دونوں کرکٹ بورڈز کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ میدان سے باہر جاری تناؤ کی جھلک انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میچ سے قبل دیکھنے میں آئی، جہاں ٹاس کے موقع پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔
No handshake ???? , ye kaya yakki part chal Raha hai ?#BANvsIND #INDvsBAN #BBL#U19WorldCup pic.
— Ozil LaLaMusa Wala ???????? (@ozilumar1877855) January 17, 2026
بھارتی ٹیم کے کپتان آیوش مہاترے اور بنگلہ دیش کے نائب کپتان زواد ابرار نے ٹاس کے دوران رسمی مصافحہ نہیں کیا۔ زواد ابرار نے بیمار ہونے کی وجہ سے دستیاب نہ ہونے والے بنگلہ دیش کے کپتان محمد عزیزالحق تمیم کی جگہ ٹیم کی قیادت کی۔
کرکٹ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ محض اتفاق نہیں بلکہ حالیہ ہفتوں میں بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کا تسلسل ہے۔ یہ تناؤ خاص طور پر آئی پی ایل 2026 اور آئندہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے متعلق معاملات کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بی سی سی آئی نے مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل میں واپسی کی پیشکش کردی؟
اس ماہ کے آغاز میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اپنی آئی پی ایل 2026 اسکواڈ سے فارغ کر دیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ بی سی سی آئی کی ہدایت پر کیا گیا، جس کے بعد بنگلہ دیش کے کرکٹ حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
Al Fahad takes two in two in the third over after Bangladesh opted to bowl against India in their #U19WorldCup matchhttps://t.co/L5pZ9NgquZ pic.twitter.com/RARYq2zlqm
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 17, 2026
بعد ازاں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو خط لکھ کر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی۔ اسی دوران بنگلہ دیشی حکومت نے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات معطل کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز میں 3 ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، تاہم بنگلہ دیش کی شرکت اور میچز کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال تاحال برقرار ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم کے گروپ مرحلے کے میچز کولکتہ اور ممبئی میں شیڈول ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈر19 بنگلہ دیش بھارت کرکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت کرکٹ اور بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے آئی پی ایل ورلڈ کپ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔