Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:59:47 GMT

بینکنگ سسٹم: روایتی سے اسلامی منتقلی، چیلنجز اور امکانات

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

بینکنگ سسٹم: روایتی سے اسلامی منتقلی، چیلنجز اور امکانات

پاکستان میں بینکاری نظام کو سود پر مبنی روایتی ڈھانچے سے شریعت کے مطابق اسلامی ماڈل میں تبدیل کرنا اب محض نظری بحث نہیں رہا بلکہ ایک آئینی، عدالتی اور عوامی مطالبہ بن چکا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے 2022 کے فیصلے کے تحت دسمبر 2027 تک سود کے خاتمے کی ہدایت کے بعد اگرچہ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاہم مکمل اسلامی بینکاری کی راہ اب بھی پیچیدہ اور کٹھن ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں اسلامی بینکاری کے اثاثے مجموعی بینکنگ انڈسٹری کے 20 فیصد سے زائد ہو چکے ہیں، مگر یہ ترقی زیادہ تر دوہرے بینکاری نظام تک محدود رہی۔ مکمل تبدیلی کے لیے صرف اسلامی شاخوں میں اضافہ کافی نہیں بلکہ مالیاتی، ریگولیٹری اور قانونی ڈھانچے کی جامع تنظیم نو ناگزیر ہے۔ اس وقت سب سے بڑی کمی ایک واضح اور متفقہ نفاذی روڈ میپ کی ہے، جس کے بغیر تاخیر اور جزوی عملدرآمد کے خدشات برقرار رہیں گے۔
حکومتی قرضوں کا موجودہ سودی نظام اسلامی بینکاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سکوک جیسے شریعت کے مطابق ذرائع کو نہ صرف وسعت دینا ہوگی بلکہ انہیں متنوع مالیاتی ڈھانچوں تک پھیلانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اسلامی بینکوں کو لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے مؤثر اور معیاری ذرائع کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے مرکزی بینک کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
قانونی اصلاحات، شریعہ گورننس میں یکسانیت، روایتی بینکوں کی مرحلہ وار تبدیلی، انسانی سرمائے کی تربیت اور عوامی آگاہی اس عمل کے اہم ستون ہیں۔ یہ تبدیلی صرف مذہبی نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اصلاح ہے، جس کا مقصد مالیاتی شمولیت، استحکام اور اخلاقی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
اگر حکومت واضح، قابلِ عمل اور قانونی حمایت یافتہ حکمت عملی کے ساتھ بروقت اقدامات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان نہ صرف 2027 کی ڈیڈ لائن حاصل کر سکتا ہے بلکہ عالمی اسلامی مالیات میں ایک مؤثر کردار کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار