Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:53:56 GMT

بینکنگ سسٹم: روایتی سے اسلامی منتقلی، چیلنجز اور امکانات

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

بینکنگ سسٹم: روایتی سے اسلامی منتقلی، چیلنجز اور امکانات

پاکستان میں بینکاری نظام کو سود پر مبنی روایتی ڈھانچے سے شریعت کے مطابق اسلامی ماڈل میں تبدیل کرنا اب محض نظری بحث نہیں رہا بلکہ ایک آئینی، عدالتی اور عوامی مطالبہ بن چکا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے 2022 کے فیصلے کے تحت دسمبر 2027 تک سود کے خاتمے کی ہدایت کے بعد اگرچہ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاہم مکمل اسلامی بینکاری کی راہ اب بھی پیچیدہ اور کٹھن ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں اسلامی بینکاری کے اثاثے مجموعی بینکنگ انڈسٹری کے 20 فیصد سے زائد ہو چکے ہیں، مگر یہ ترقی زیادہ تر دوہرے بینکاری نظام تک محدود رہی۔ مکمل تبدیلی کے لیے صرف اسلامی شاخوں میں اضافہ کافی نہیں بلکہ مالیاتی، ریگولیٹری اور قانونی ڈھانچے کی جامع تنظیم نو ناگزیر ہے۔ اس وقت سب سے بڑی کمی ایک واضح اور متفقہ نفاذی روڈ میپ کی ہے، جس کے بغیر تاخیر اور جزوی عملدرآمد کے خدشات برقرار رہیں گے۔
حکومتی قرضوں کا موجودہ سودی نظام اسلامی بینکاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سکوک جیسے شریعت کے مطابق ذرائع کو نہ صرف وسعت دینا ہوگی بلکہ انہیں متنوع مالیاتی ڈھانچوں تک پھیلانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اسلامی بینکوں کو لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے مؤثر اور معیاری ذرائع کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے مرکزی بینک کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
قانونی اصلاحات، شریعہ گورننس میں یکسانیت، روایتی بینکوں کی مرحلہ وار تبدیلی، انسانی سرمائے کی تربیت اور عوامی آگاہی اس عمل کے اہم ستون ہیں۔ یہ تبدیلی صرف مذہبی نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اصلاح ہے، جس کا مقصد مالیاتی شمولیت، استحکام اور اخلاقی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
اگر حکومت واضح، قابلِ عمل اور قانونی حمایت یافتہ حکمت عملی کے ساتھ بروقت اقدامات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان نہ صرف 2027 کی ڈیڈ لائن حاصل کر سکتا ہے بلکہ عالمی اسلامی مالیات میں ایک مؤثر کردار کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ