ذہنی دباؤ کے خلاف سائنسی جدوجہد میں ڈاکٹر صدف احمد کی پذیرائی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
کراچی:
اگرچہ ذہنی دباؤ ایک عالمی مسئلہ ہے، لیکن پاکستان میں ایک معروف نیورو سائنس دان نے اسے باقاعدہ سائنسی تحقیق اور علاج کا میدان بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر صدف احمد، جو ایک نمایاں استاد اور محقق ہیں، نے ذہنی دباؤ کی سائیکوفزیالوجی پر بنیادی کام کیا ہے اور ایسے عملی، شواہد پر مبنی طریقے متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے روزمرہ زندگی میں اس کے اثرات کو ناپا اور کم کیا جا سکتا ہے۔
ان کے اس سفر کا آغاز ’’صدف اسٹریس اسکیل‘‘ کی تیاری سے ہوا، جو پاکستان میں ذہنی اور حیاتیاتی دباؤ کی پیمائش کا پہلا معیاری آلہ ہے۔ اس اسکیل نے اساتذہ، معالجین اور محققین کو یہ سہولت فراہم کی کہ وہ دباؤ کی بروقت نشاندہی کر سکیں، خاص طور پر طلبا، کام کرنے والی خواتین اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد میں، تاکہ بروقت مداخلت اور رہنمائی ممکن ہو سکے۔
ذہن اور جسم کے باہمی تعلق کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے ڈاکٹر صدف احمد نے جامعہ کراچی میں ملک کی پہلی سائیکوفزیالوجی لیبارٹری قائم کی، جہاں ای ای جی، ہارٹ ریٹ ویری ایبلٹی اور بایو فیڈ بیک جیسے جدید آلات موجود ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی معاونت سے قائم یہ لیبارٹری نوجوان سائنس دانوں کے لیے ایک تربیتی مرکز بنی، جہاں وہ یہ مطالعہ کرتے ہیں کہ طویل المدتی ذہنی دباؤ صحت اور رویّوں پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صدف احمد کی خدمات صرف تحقیق تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے سینٹر آف ہیلتھ اینڈ ویلبیئنگ کے ذریعے مفت نیورو فیڈ بیک اور اسٹریس مینجمنٹ کلینکس قائم کیے، جہاں لوگوں کو ایسے علاج فراہم کیے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن، سانس اور جذباتی ردِعمل کو قابو میں رکھنے کی تربیت دیتے ہیں۔ ہزاروں افراد ان سیشنز سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جن میں نیورو سائنس، مائنڈفلنیس اور رویّاتی تربیت کو یکجا کر کے بے چینی کم کرنے اور توجہ بہتر بنانے پر کام کیا جاتا ہے۔
ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر صدف احمد کو 2025 میں سوسائٹی فار نیورو سائنس (SfN) اور ایلن انسٹیٹیوٹ، امریکا کی جانب سے ’’سائنس ایجوکیٹر ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز شاذ و نادر ہی شمالی امریکا سے باہر دیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے نیورو سائنس کو عام زندگی سے جوڑنے میں ان کی قیادت کو سراہا گیا۔
سائنسی درستگی اور انسانی ہمدردی کو یکجا کرنے والا ڈاکٹر صدف احمد کا یہ منفرد انداز ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے تعلیم اور جدت پر مبنی ایک قومی ماڈل بن چکا ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، ڈاکٹر صدف احمد کا کام اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سائنس کو معاشرے کی جڑوں سے جوڑ دیا جائے تو وہ نہ صرف ذہن بلکہ پورے معاشرے کو شفا دے سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر صدف احمد نیورو سائنس
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔