انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
کراچی:
انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت کی محتاط مالیاتی و زرمبادلہ پالیسی کے ذریعے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت، عالمی بینک کی رواں سال 3فیصد معاشی نمو کی پیش گوئی، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے اضافے اور متحدہ عرب امارات سے ڈھائی ارب ڈالر کے قرضے کم شرح سود کے ساتھ رول اوور ہونے کی توقعات کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں جمعے کو 81ویں دن ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
ایکس چینج کمپنیوں کو "راست” سسٹم استعمال کرنے کی اجازت سے ترسیلات زر براہ راست بینک اکاونٹس میں وصول ہونے جیسے اقدامات، افراط زر کی شرح قابو میں رہنے اور ریکوڈک منصوبے میں غیرملکیوں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری دلچسپی کی خبروں سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیئے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔
مارکیٹ میں ایک موقع پر ڈالر کی قدر 21پیسے کی کمی سے 279روپے 75پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی تاہم کاروباری دورانیے میں زرمبادلہ کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 279روپے 95پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 281روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل انٹربینک مارکیٹ میں میں ڈالر کی قدر
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔