Al Qamar Online:
2026-06-03@05:07:55 GMT

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT


کراچی:

انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت کی محتاط مالیاتی و زرمبادلہ پالیسی کے ذریعے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت، عالمی بینک کی رواں سال 3فیصد معاشی نمو کی پیش گوئی، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے اضافے اور متحدہ عرب امارات سے ڈھائی ارب ڈالر کے قرضے کم شرح سود کے ساتھ رول اوور ہونے کی توقعات کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں جمعے کو 81ویں دن ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔

ایکس چینج کمپنیوں کو "راست” سسٹم استعمال کرنے کی اجازت سے ترسیلات زر براہ راست بینک اکاونٹس میں وصول ہونے جیسے اقدامات، افراط زر کی شرح قابو میں رہنے اور ریکوڈک منصوبے میں غیرملکیوں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری دلچسپی کی خبروں سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیئے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔

مارکیٹ میں ایک موقع پر ڈالر کی قدر 21پیسے کی کمی سے 279روپے 75پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی تاہم کاروباری دورانیے میں زرمبادلہ کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 279روپے 95پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 281روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل انٹربینک مارکیٹ میں میں ڈالر کی قدر

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر