عالمی بینک کی فنڈنگ اصلاحات اور کارکردگی کیلئے 2035 تک 80 ارب ڈالر کا فریم ورک منظور
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: عالمی بینک نے پاکستان کے لیے اپنی آئندہ فنڈنگ کو کارکردگی اور اصلاحات سے مشروط کر دیا ہے، جس کے تحت مالی سال 2026 سے 2035 تک بغیر اصلاحات کے کسی بھی منصوبے کے لیے رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلے میں حکومت نے عالمی بینک کے ساتھ 10 سالہ فریم ورک تیار کر لیا ہے، جس کے تحت ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق عالمی بینک آئندہ دس برسوں کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر 80 ارب ڈالر کے منصوبوں پر عملدرآمد کرائے گا۔ اس فریم ورک کی منظوری کے بعد پنجاب حکومت میں میگا ترقیاتی منصوبوں کا آغاز متوقع ہے، جن کا مقصد گورننس، معیشت اور سماجی شعبوں میں بہتری لانا ہے۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
ذرائع کے مطابق اس فنڈنگ میں سے 20 ارب ڈالر حکومت اور گورننس سے متعلق اصلاحات کے لیے مختص ہوں گے، جبکہ مزید 20 ارب ڈالر نجی شعبے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ بچوں کی غذائی قلت، تعلیم، صحت اور ماحولیات جیسے اہم شعبوں پر بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کی فنڈنگ کے حصول کے لیے پنجاب حکومت کو بھی اپنے وسائل شامل کرنا ہوں گے، جبکہ ہر منصوبے کو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے تحت رکھا جائے گا۔ فریم ورک کے مطابق ہر دو سال بعد بزنس پلان کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ اہداف اور کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جا سکے۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
2035 تک جاری رہنے والے اس فریم ورک کے تحت نہ صرف بنیادی اصلاحات پر عملدرآمد ہوگا بلکہ پنجاب میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے، جس سے مجموعی معاشی استحکام اور ترقی کو فروغ ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: عالمی بینک ارب ڈالر کے لیے کے تحت
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔