پاکستانی مندوب کا عالمی قوانین کے تحت مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے حل پر زور
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے عالمی قوانین کے تحت مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے پرامن حل کو نہایت ضروری قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں تنازعات سے بچاؤ اور ان کے حل پر ہونے والے مباحثے سے خطاب میں عاصم افتخار نے کہا کہ بدقسمتی سے آج تک مسئلہ فلسطین اور کشمیر کا کوئی حتمی حل نہیں نکالا جا سکا۔
انہوں نے تمام تنازعات کے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستانی مندوب نے گزشتہ روز بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کے دوران زور دیا تھا کہ تمام تنازعات پُرامن طریقے سے حل ہونے چاہیے۔
مزید پڑھیںنیو یارک، پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار کی صدر یو این جنرل اسمبلی سے اہم ملاقات
عاصم افتخار نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان تمام تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے اور عالمی قوانین کے مطابق انہیں حل کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عاصم افتخار
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔