مالی خودمختاری کیلیے ریکوری کے اہداف کا حصول ناگزیرہے‘ محمد مظفر
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفرنے میونسپل کمشنراطہر سعید خان کے ہمراہ تمام محکموں کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس سے پروگریس رپورٹ کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا اجلاس میں ٹاؤن کے تمام ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی مقصد ٹاؤن میں جاری ترقیاتی، انتظامی اور سروس ڈیلیوری کے امور کا جائزہ لینا اور تمام محکموں سے فوری طور پر پروگریس رپورٹس طلب کرنا تھا۔ اجلاس میں چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اورسبک رفتار کے ساتھ انجام دیں۔ اجلاس میں ہر محکمہ کے سربراہ سے علیحدہ علیحدہ کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی گئی۔ خصوصاً سینی ٹیشن، بلدیاتی خدمات، کونسل امور اور دیگر شعبہ جات کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سینی ٹیشن ظہیر احمد نے صفائی ستھرائی، کچرے کی بروقت منتقلی اور فیلڈ آپریشنز سے متعلق اپنی پروگریس رپورٹ پیش کی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر کونسل محمد عبید نے کونسل امور اور انتظامی پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس میں ریونیو اور ریکوری کے معاملات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ چیئرمین سید محمد مظفر نے واضح کیا کہ ٹاؤن کی مالی خودمختاری کے لیے ریکوری کے اہداف کا حصول نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ واجبات کی وصولی، لیز، فیس اور دیگر ریونیو ذرائع کو مزید مؤثر بنایا جائے اور اس ضمن میں غفلت یا سستی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ میونسپل کمشنر اطہر سعید خان نے بھی تمام متعلقہ افسران کو ریکوری کے نظام کو بہتر بنانے اور شفافیت کے ساتھ اہداف مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں شریک افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چیئرمین اور میونسپل کمشنر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے محکموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اجلاس میں ریکوری کے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔