— فائل فوٹو

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین کے تقرر میں غیر معمولی تاخیر اور تین بہترین عالمی شہرت یافتہ امیدواروں کی سمری منظور نہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا پر سمری مسترد ہونے کی خبریں پھیلنا شروع ہوگئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش خبروں میں کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم نے اعتراض کرتے ہوئے سمری واپس وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت بھجوا دی ہے اور کہا ہے کہ چیئرمین ایچ ای سی کے عہدے کے لیے دوبارہ اشتہار دیا جائے۔ 

ایچ ای سی  کے مستقل چیئرمین کی تقرری کے لیے انٹرویوز کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وزیراعظم کی جانب سے تاحال مستقل چیئرمین کی تقرری نہ ہوسکی، جس کے باعث ادارہ جاتی گورننس، شفافیت اور قانونی تقاضوں پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

مستقل چیئرمین کی اسامی 29 جولائی 2025 سے خالی ہے اور سیکریٹری ایجوکیشن ندیم محبوب بطور قائم مقام چیئرمین 3 ماہ کی ایک مدت مکمل کرچکے ہیں جبکہ 3 ماہ کی دوسری مدت ختم ہونے میں محض صرف 10 روز باقی رہ گئے ہیں۔

ایچ ای سی کی 23 برس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مکمل میرٹ پر مستقل چیئرمین کی تقرری ہونے والی تھی، ان تین امیدواروں میں پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، ڈاکٹر محمد علی شاہ اور ڈاکٹر نیاز احمد شامل ہیں جن کی نہ صرف ملکی شہرت ہے بلکہ یہ دیگر ممالک میں بھی مقبول ہیں اور ان کی بیشتر اعلیٰ تعلیمی اسناد غیر ممالک سے حاصل کی گئی ہیں۔

جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس سے سمری مسترد ہونے کی بات میں کوئی صداقت نہیں اور نہ مجھے اس کی کوئی اطلاع ہے۔

سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب کا کہنا تھا کہ سمری مسترد ہونے کی انہیں تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

تعلیمی ماہرین اور پالیسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سرچ کمیٹی کا قیام اور اس کے اراکین کا تقرر خود وزیراعظم کی منظوری سے ہوا تھا، اس لیے اگر انہی سفارشات کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو یہ ناصرف سرچ کمیٹی بلکہ پورے انتخابی عمل پر عدم اعتماد کے مترادف ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اس تاخیر سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پالیسی جمود، انتظامی بے یقینی اور ادارہ جاتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مستقل چیئرمین کی تقرری سمری مسترد ہونے کی ایچ ای سی

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا