ایران کے ساتھ کھڑا ہونے میں مشرق وسطیٰ کا امن، مفادات ہیں: اختر ڈار
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
شیخوپورہ (نمائندہ خصوصی) تحریک انصاف نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال ڈار نے سعودی عرب کی ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی کارروائی میں حصہ دار نہ بننے کی یقین دہانی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو کمزور کرنے میں پاکستان کی بھی کمزوری شامل ہے اور یہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا اقدام بھی ہے۔ مسلمان ملکوں کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے کیونکہ ایران کے ساتھ کھڑا ہونے میں مشرق وسطیٰ کا مفادات اور پاکستان سمیت دیگر ملکوں کی بقا شامل ہے۔ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو پھر انڈیا افغانستان سمیت ہماری سرحدیں مزید غیر محفوظ ہو جائیں گی۔ روس کا کہنا کہ امریکا ناقابل اعتبار ہے، یہی اصل حقیقت ہے، ٹرمپ کو اکیلا کرنے میں ہی پوری دنیا کا سکون ہے۔ 34 عالمی بنکوں کا چائنہ کے بنکنگ سسٹم CIPS میں سوئچ اون کرنا ڈالر کی معاشی جارحیت کو روکنے کی طرف ایک قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔