انجام کی طرف بڑھتا امریکا اور سید مودودی کی پیش گوئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-03-7
وہ مردِ حق، مردِ درویش جس کی نگاہ صرف حال پر نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کے اُفق تک پھیلی ہوئی تھی۔ جسے نہ اقتدار کی چکا چوند نے خیرہ کیا، نہ زمانے کے شور نے گمراہ کیا۔ خدا کی عطا کردہ فراست، دل کی گہرائیوں میں اُترتی ہوئی بصیرت اور تاریخ کے مزاج سے آشنائی نے اسے وہ کچھ کہنے کی جرأت و توفیق دی جو اس کے عہد کے دانشور سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ اْس وقت جب دنیا دو واضح خانوں میں منقسم تھی، جب ماسکو کمیونزم کا قبلہ اور واشنگٹن سرمایہ دارانہ نظام کا ناقابل ِ تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا، اْس مردِ درویش نے مستقبل کے پردے چاک کرتے ہوئے ایک ایسی بات کہی جو اس دور میں دیوانگی سمجھی جا سکتی تھی مگر آج حکمت کی بلند ترین مثال بن کر سامنے کھڑی ہے۔ اس نے طاقت کے ایوانوں، مالیاتی مراکز اور نظریاتی قلعوں کے اندر چھپی کمزوریوں کو اس وقت دیکھ لیا تھا جب سب انہیں ابدی سمجھ رہے تھے۔ اس کی زبان سے ادا ہونے والا ہر لفظ دراصل تاریخ کے اوراق پر ثبت ہونے والا ایک سنہری نشان تھا، ایک ایسا نشان جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید چمکتا اور روشن ہوتا چلا گیا۔ قریباً ستر برس پہلے کہی گئی اس پیش گوئی میں نہ صرف نظاموں کے زوال کا اشارہ تھا بلکہ اس غرورِ اقتدار کی بھی نشاندہی تھی جو آخرکار اپنے ہی بوجھ تلے دب جایا کرتا ہے۔ مرشد مودودیؒ کا قول تھا کہ ’’ایک وقت آئے گا جب کمیونزم کو ماسکو میں پناہ نہیں ملے گی اور سرمایہ دارانہ نظام واشنگٹن اور نیو یارک میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا‘‘۔
آج عالمی سیاست کے بدلتے نقشے، طاقت کے لرزتے ستون اور خوف میں لپٹی ہوئی سپر پاور کی حرکات دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا اسی لمحے کے قریب آن کھڑا ہواہے، جہاں اقتدار کا غرور اضطراب میں بدلتا ہے اور طاقت خود اپنے سائے سے خائف دکھائی دیتی ہے۔
ٹرمپ کے شوق شرانگیزی کا نیا ہدف: ڈنمارک گرین لینڈ ہے جو بظاہر تو برف سے ڈھکا ایک خاموش جزیرہ ہے، مگر آج یہ عالمی سیاست کے اعصاب پر ہاتھ رکھے کھڑا ہے۔ وجہ صرف اس کی جغرافیائی اہمیت نہیں بلکہ وہ جارحانہ لہجہ ہے جس کے ساتھ امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ اس کا ذکر کر رہے ہیں۔ وینزویلا میں خلاف غیر قانونی مداخلت، ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں اور سخت بیانات کے بعد اب ڈنمارک جیسے ناٹو اتحادی کو بھی طاقت کے اسلوب میں مخاطب کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ ٹرمپ امریکا کو اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے لے کر جارہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ گرین لینڈ امریکی دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ اْس کے نقطہ ٔ نظر سے یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ نہیں کہ گرین لینڈ اسٹرٹیجک ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی نظام میں اختلافات اب دھمکیوں سے حل کیے جائیں گے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اتحاد، معاہدے اور بین الاقوامی قانون سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ناٹو اتحادیوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے اور یورپ خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔
برسلز میں یورپی یونین کے راہنما اس معاملے کو محض امریکا اور ڈنمارک کے درمیان اختلاف نہیں سمجھ رہے۔ ان کے نزدیک یہ ناٹو کے اجتماعی مزاج اور باہمی اعتماد کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر امریکا اپنے اتحادیوں سے بھی طاقت کی زبان میں بات کرے گا تو پھر اتحاد کی بنیاد کمزور ہو گی۔ یورپی دارالحکومتوں میں ٹرمپ کی دھمکیوں کو غیر ذمے دارانہ اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے صدر ٹرمپ سے براہ راست رابطہ کیا اور گرین لینڈ کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ برطانیہ کا موقف ہے کہ ناٹو اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو دھمکیوں کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے۔ اسٹارمر کا یہ رابطہ محض رسمی نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپ اب ٹرمپ کے جارحانہ انداز کو خاموشی سے قبول کرنے کے موڈ میں نہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر ٹرمپ کے اس جنگی اور جارحانہ مزاج کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ اسلحہ ساز کمپنیاں ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی جنگ یا تنازع کا شور بلند ہوتا ہے، دفاعی صنعت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ امریکی عسکری و صنعتی گٹھ جوڑ کے مفادات اس حقیقت سے جڑے ہوئے ہیں کہ امن کے مقابلے میں بحران زیادہ منافع بخش ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیاں محض سیاسی فیصلے نہیں بلکہ معاشی مفادات کا تسلسل بھی دکھائی دیتی ہیں۔ دوسرا اہم عنصر صہیونی لابی کا دباؤ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف سخت رویہ اور طاقت کے استعمال کی سوچ اسرائیلی مفادات سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ اگرچہ گرین لینڈ کا مسئلہ براہِ راست مشرق وسطیٰ سے متعلق نہیں، مگر طاقت کے ذریعے عالمی نقشہ بدلنے کی ذہنیت اسی سوچ کی توسیع معلوم ہوتی ہے۔ تیسرا عامل امریکی داخلی سیاست ہے جہاں کمزوری کو سیاسی خودکشی سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ اپنی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کمزور نہیں بلکہ فیصلہ کن اور طاقتور رہنما ہیں، چاہے اس کے لیے عالمی عدم استحکام کا خطرہ ہی کیوں نہ مول لینا پڑے۔
ان جارحانہ اقدامات کے ممکنہ منفی اثرات خود امریکا کے لیے بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ناٹو اتحادی بدظن ہو رہے ہیں، یورپی یونین امریکا سے فاصلہ بڑھا رہی ہے اور عالمی سطح پر امریکا کی اخلاقی برتری کمزور پڑ رہی ہے۔ اگر امریکا ہر مسئلے کا حل طاقت میں تلاش کرے گا تو اتحادی آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کریں گے۔ طاقت اکیلے نہیں چلتی، اسے اتحاد اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکی عوام کے اندر بھی اس رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ افغانستان اور عراق کی طویل جنگوں نے امریکی معاشرے کو تھکا دیا ہے۔ نئی مہم جوئی کا خیال عوام میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ میڈیا، دانشوروں اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ کیا امریکا ہر بحران کا حل جنگ میں ڈھونڈے گا یا کبھی سفارت کاری کو بھی موقع دے گا۔ یہ خدشات اب محض نظری نہیں رہے بلکہ سیاسی حقیقت بن چکے ہیں۔
اگر اس سارے منظرنامے کو سید مودودیؒ کے قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے۔ واقعی وہ وقت قریب آ رہا ہے جب سرمایہ دارانہ نظام اپنے ہی مراکز میں عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گا۔ شاید ٹرمپ کی قیادت میں امریکا ایسی راہ پر گامزن ہے جہاں طاقت کا غرور اسے عالمی تنہائی کی طرف لے جائے گا۔ یہ سوال صرف امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے، کیونکہ ایک غیر متوازن سپر پاور کا اثر عالمی امن پر براہ راست پڑرہا ہے۔ گرین لینڈ کا معاملہ بظاہر ایک جزیرے کی کہانی ہے، مگر درحقیقت یہ عالمی نظام کے مستقبل کا امتحان ہے۔ اگر طاقت کی زبان غالب آ گئی تو مکالمہ ختم ہو جائے گا، اور جب مکالمہ ختم ہوتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ زوال کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کو رُک کر سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اسی راستے پر جانا چاہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ نہیں بلکہ طاقت کے ہوتا ہے ہے جہاں ٹرمپ کی رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف