ٹرمپ ایران پر حملے کافیصلہ واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن/تہران/اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک +نمائندہ جسارت) برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔ دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنے کا موقع دینا چاہیے۔اس سے قبل ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ ‘مدد آرہی ہے’۔ بدھ کو رات گئے ٹرمپ یہ کہہ کر یقینی حملے کے فیصلے سے پیچھے ہٹے کہ ایران میں ہلاکتیں رک رہی ہیں۔ٹرمپ کے اس فیصلے سے ذرا پہلے ہی ایران نے احتجاج کرنے والوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ روک دیا تھا۔ایک سینئر سعودی آفیشل نے فرانسیسی خبر ایجنسی کو بتایا کہ خلیجی ملکوں نے طویل اور تھکادینے والی آخری لمحات میں کی گئی سفارتی کوششوں سے صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایران کو ایک موقع اور دیا جائے۔ان ملکوں نے یہ انتباہ بھی کیا تھا کہ حملے کے خطے میں نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔ سعودی آفیشل نے کہا کہ یہ بموں کو ڈی فیوز کرنے کے لیے کوششیں کرنے کی ایک بے خوابی والی رات تھی۔اخبار کے مطابق ترکیے اور مصر نے بھی ٹرمپ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی اور ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ ایران پر امریکی حملے کے ایران کے پڑوسی ملکوں پر اثرات برے پڑیں گے اور تیل و گیس کی عالمی قیمتوں پر بھی منفی اثر پڑے گا۔دی ٹیلی گراف کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نیشنل سیکورٹی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ایران پر حملہ صرف اس صورت میں کریں گے جب اس کے ایرانی رجیم پر فیصلہ کن اثرات مرتب ہوں۔دوسری جانب امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ لوگ ابھی دیکھتے رہیں، ایران پر امریکی حملے کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔دیگر عالمی ذرائع ابلاغ بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران پر امریکی حملے کا خطرہ برقرار ہے، پینٹاگون نے کروز میزائلوں، جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے لیس بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ روانہ کردیا ہے جو ایک ہفتے میں پہنچے گا۔امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ مختصر اور فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں ، حملوں میں ایرانی پاس داران انقلاب، بسیج فورس اور پولیس کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔علاوہ ازیں امریکا نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں 5ایرانی حکام پر پابندیاں عاید کر دیں۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی حکومت نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کی جانب سے دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کی جانے والی رقوم پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے علاوہ پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ کمانڈر شامل ہیں جن پر مظاہروں کو طاقت کے ذریعے دبانے کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔قبل ازیں پاکستان نے ایران سمیت کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت سے انکار کردیا۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی میں کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے کا کوئی تصور نہیں، ملکی کی پالیسی کے مطابق پاکستان نے نہ ماضی میں ایسی کوئی اجازت دی اور نہ ہی مستقبل میں کسی ملک کو اپنی فضائی حدود اپنے کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے ایران کے مطابق کہ ایران ایران پر کرنے کی کے خلاف
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔