بھارتی شہریوں کیلئے ایران چھوڑنے کی ایڈوائزری پریشانی کی باعث بنی، والدین
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
تازہ ایڈوائزری میں تہران میں بھارتی سفارت خانے نے طلبہ، زائرین، کاروباری افراد اور سیاحوں سمیت سبھی بھارتی شہریوں کو کسی بھی دستیاب ذرائع حتی کہ کمرشل پروازوں کے ذریعے بھی بلا تاخیر ایران چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی موجودہ صورتحال کے دوران ایران چھوڑنے سے متعلق بھارتی ایڈوائزری کے بعد وہاں زیر تعلیم بھارتی طلبہ کے والدین میں تشویش بڑھ گئی ہے اور وہ اپنے عزیزوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تازہ ایڈوائزری میں تہران میں بھارتی سفارت خانے نے طلبہ، زائرین، کاروباری افراد اور سیاحوں سمیت سبھی بھارتی شہریوں کو کسی بھی دستیاب ذرائع حتی کہ کمرشل پروازوں کے ذریعے بھی بلا تاخیر ایران چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ ایران میں اس وقت دو ہزار سے زائد بھارتی طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں اکثریت جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے "ایم بی بی ایس" طلبہ کی ہے۔ افروزہ شفیع نامی سرینگر کی ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں اپنی دختر کی سلامتی کے تئیں شدید تشویش لاحق ہے، ان کی دختر اَراک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ افروزہ کے مطابق ان کی بیٹی کورس کے تیسرے سال میں ہے اور انہیں مالی مسائل کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رابطہ منقطع ہونے کے پانچ روز بعد ان کی بیٹی کا فون آیا۔ ایران میں بیشتر طلبہ انٹرنیشنل کالنگ پر پابندی کے باعث اپنے وطن کال نہیں کر پا رہے ہیں۔ کرنسی ایکسچینج بھی کام نہیں کر رہا اور ڈالر تبدیل نہ ہونے کے باعث طلبہ کے پاس تقریباً پیسے ختم ہو چکے ہیں۔ افروزہ شفیع کے مطابق ایران سے نئی دہلی کا ہوائی کرایہ غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے اور ٹکٹ کی قیمت 70 سے 80 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ عام حالات میں یہی کرایہ 20 سے 25 ہزار روپے ہوتا ہے۔ افروزہ کی طرح سہیل مزمل کاظمی بھی ایڈوائزری کے بعد پریشان ہوگئے ہیں اور انہوں نے مودی حکومت سے اپنے فرزند سمیت درماندہ طلبہ خاص کر کشمیریوں کے انخلا کی اپیل کی ہے۔
سہیل مزمل کاظمی نے بتایا کہ وہاں کھانے پینے کی اشیاء دستیاب ہیں، تاہم طلبہ کو شام چھ بجے کے بعد ہاسٹل سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی سفارت خانے کی ایڈوائزری کے بعد تشویش مزید بڑھ گئی ہے، ہم سبھی والدین بچوں کے انخلاء کے لئے ٹکٹ کی رقم ادا کرنے کو تیار ہیں، مگر وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے طلبہ کی حفاظت کی اپیل کر رہے ہیں۔ ایران میں 28 دسمبر سے مہنگائی اور کرنسی میں شدید گراوٹ کے خلاف شروع ہوئے مظاہروں کے بعد ملک گیر بدامنی پھیل گئی۔ امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق اب تک 1,850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں نو بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 16,700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ایران کی صورتحال پر بات کی ہے اور انہیں وہاں موجود جموں و کشمیر کے شہریوں کی حفاظت کی یقین دہانی کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ نے زمینی صورتحال اور وزارت خارجہ کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا اور یقین دلایا کہ طلبہ اور دیگر افراد کی جان و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران چھوڑنے نے بتایا کہ انہوں نے کے بعد گئی ہے ہے اور
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔