اب ایران پر امریکی حملے کے حالات نہیں رہے: رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سماء ٹی وی کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکا کا حملہ ٹل گیا ہے، ایران پر حملے کے حالات نہیں رہے،ایران میں اتحادآیا،حکومت کی حمایت میں لوگ باہر نکلے، حملے سے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق راناثنا کا کہناتھا کہ ٹرمپ کے بیانات سے ایران کو نقصان ہوا ہو گا، صدر ٹرمپ کے بیانات سے ایرانی قوم میں جذبہ جاگ گیا، ایران تحریک میں غیرملکی عنصر،ٹرمپ کی دھمکیاں نہ ہوتیں تو زیادہ فورسز استعمال نہ کرنا پڑتیں، ایران میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، ایران میں الیکشن ہوتے ہیں،لوگوں کو ووٹ کا حق حاصل ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ایران میں عقیدے،مذہب،نظریے کی بنیاد پر ایسی مزاحمت بنے گی جو خطے کو لپیٹ میں لے گی، افغانستان کا مسئلہ پوری دنیا کیلئے درد سر بنا ہوا ہے، افغانستان سے پاکستان متاثر ہو رہا ہے، امریکا نے وینزویلا میں رجیم چینج کیا،ایران بڑا ملک ہے، پاکستان ایران سے بھی بڑا ملک ہے، وینزویلا،گرین لینڈ،ایران کا آپس میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں آپس میں صلح کرنی چاہیے، جو صلح کرنے سے انکاری ہے قصور اُس کا ہے، حکومت مستحکم ہے،کسی قسم کاکوئی تھریٹ نہیں، ہم نہیں کہتے ہمیں گالیاں نہ دیں لیکن اداروں کو تو گالیاں نہ دیں، نوازشریف،آصف زرداری کے پاس اپنی جماعت کا اختیارہے،کسی اور کا نہیں، پی ٹی آئی کو سنگجانی جانے کا کہا گیا تھالیکن اس پر انہوں نے عمل نہیں کیا۔
ان کا کہناتھا کہ امریکی وفد آیا تھا وہ مایوس ہو کر گیا ہے، تالی دونوں ہاتھ سے بجے گی،ایک ہاتھ سے نہیں، وزیراعظم نے اپوزیشن کی سیٹوں پر جا کر دعوت دی، وزیراعظم شہبازشریف نے خلوص نیت سے بات کی، اسپیکرقومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے اپنی رائے دیں گے، پی ٹی آئی پہیہ جام ہڑتال کرنے کی پوزیشن میں نہیں، تحریک انصاف پشاور میں بھی پہیہ جام نہیں کر سکتی۔
پاکستانی سفیر برائے ایران محمد مدثر ٹیپو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں پاکستانی طلبا بہت زیادہ ہیں، ہمارا پاکستانی طلبا،ان کےنمائندوں سے رابطہ ہے، کچھ پاکستانی طلبا واپس جاچکے ہیں، ہم نے سفارتخانے میں ایک یونٹ کھولا ہے،24گھنٹےکام کر رہا ہے، ایران میں وائی فائی کا بلیک آؤٹ ہے جس سے مشکلات ہیں، ہماری خواتین افسران تہران کی یونیورسٹیز میں گئی ہیں،طلبا سے ملکر آئیں۔
مدثرٹیپو نے کہا کہ ایران میں غیرملکی طلبا کو ایک مہینے کی چھٹی دے دی ہے، کچھ میڈیکل کے طلبا کو وطن واپس جانےکی اجازت نہیں دی گئی، ہمارے ادارے آپس میں رابطے میں ہیں، میرا بھی تمام اداروں سے رابطہ ہے، ہمارا بارڈرز اتھارٹیز سے بھی رابطہ ہے، تجارت ہو رہی ہے،آج بھی کینوز کے 70 کنٹینرز گئے ہیں، ایران کے ذریعے ٹرانزٹ ٹریڈ بھی ہو رہی ہے، ہم روزانہ اپنے سوشل میڈیا کو بھی اپ ڈیٹ کر رہےہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔