امریکی حملے کا خدشہ: یورپی ممالک کی اپنے شہریوں کو ایران سے فوری نکلنےکی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن کی اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کے باعث جلد از جلد ایران سے نکلنے کی کوشش کریں۔
پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں اپنے شہریوں کو فوری انخلا کا مشورہ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران میں موجود اپنا تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے اور برطانوی سفیر کو بھی تہران سے طلب کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح جرمنی نے اپنے طیاروں کو ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ ادھر تہران میں بھارتی سفارتخانے نے بھی اپنے شہریوں کو بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر دستیاب ذرائع نقل و حمل کے ذریعے ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اپنے شہریوں کو
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔