امریکی و اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول، منہ توڑ جواب دینگے، ایران کا سلامتی کونسل میں انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے مستقل مندوب نے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل کے دہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی مندوب غلام حسین درزی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی اصل وجہ وہی طاقتیں ہیں جو فلسطین میں نسل کشی پر خاموش اور مزاحمتی قوتوں کے خلاف متحرک نظر آتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کی داخلی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا سیاسی منافقت کی بدترین مثال ہے، کیونکہ یہی امریکا اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری قتل عام، محاصرے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایرانی مندوب نے کہا کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی پر خاموش رہنے والی طاقتوں کا ایران کو انسانی حقوق کا درس دینا قابلِ مذمت ہے۔
غلام حسین درزی کا کہنا تھا کہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں دراصل اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں جب کہ ایران پر عائد طویل پابندیاں عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے، اسی طرز پر ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایرانی مندوب نے انکشاف کیا کہ ایران میں ہونے والے بعض حملے داعش طرز کی دہشت گرد کارروائیاں تھیں، جن کا مقصد داخلی انتشار پھیلانا تھا، تاہم ایرانی سیکورٹی فورسز نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر شہریوں کو بچایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا کھلے عام مظاہرین کو بغاوت پر اکسا رہا ہے، جو کسی بھی خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔ ایرانی مندوب کے مطابق اگر عالمی ادارے فلسطین کی طرح ایران کے معاملے پر بھی دہرے معیار اپناتے رہے تو اقوام متحدہ کی ساکھ شدید متاثر ہوگی۔
خطاب کے اختتام پر غلام حسین درزی نے کہا کہ ایران پرامن مظاہرین کے حقوق کا احترام کرتا ہے، تاہم بیرونی سازشوں اور جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا ایران کا قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی امن اسی وقت ممکن ہے جب فلسطین سمیت تمام مظلوم اقوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایرانی مندوب نے کہا کہ کہ ایران انہوں نے ایران پر
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔