کینیڈا کی مارکیٹ میں چینی الیکٹرانک گاڑیوں کی انٹری، امریکا کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
امریکا نے کینیڈا کی جانب سے چینی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو درآمد کی اجازت دینے کے فیصلے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کینیڈا کو اس فیصلے پر پچھتانا پڑے گا۔
امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کینیڈا نے چینی گاڑیوں کو اپنے بازار میں آنے کی اجازت دے کر غلط فیصلہ کیا ہے اور یہ گاڑیاں امریکا میں داخل نہیں ہونے دی جائیں گی۔
واضح رہے کہ کینیڈا نے 2024ء میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا تاہم گزشتہ روز وزیرِاعظم مارک کارنی نے بیجنگ میں ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 49 ہزار تک چینی الیکٹرک گاڑیاں 6.
دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ یہ گاڑیاں صرف کینیڈا تک محدود رہیں گی اور امریکی آٹو انڈسٹری پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم انہوں نے اس فیصلے کو ’سنگین مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے آٹو ورکرز کے تحفظ کے لیے چینی گاڑیوں پر سخت ٹیرف کا فیصلہ قائم رکھے گا۔
گریئر نے مزید کہا کہ امریکا میں گاڑیوں کی سائبر سیکیورٹی سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں جس کے باعث چینی گاڑیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں آنا مشکل ہوگا۔
اس سے متعلق ریپبلکن سینیٹر برنی مورینو کا کہنا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں، امریکا میں چینی گاڑیاں فروخت نہیں ہونے دیں گے۔
اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں چینی کمپنیاں امریکا میں گاڑیاں تیار کریں مگر دونوں بڑی امریکی جماعتیں چینی گاڑیوں کی مخالفت کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چینی گاڑیوں امریکا میں
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔