ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا، کسی نے قائل نہیں کیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے حوالے سے کہا ہے کہ اس فیصلے کے لیے انہیں کسی نے قائل نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو اس کے لیے آمادہ کیا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی، تاہم کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، جس کا عالمی سطح پر بڑا اثر پڑا۔ انہوں نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ایرانی قیادت نے ان افراد کو پھانسی دینے سے گریز کیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر سے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس کے علاوہ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان کی سفارتی کوششوں نے بھی صدر ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر آمادہ کیا تاکہ تہران کو اچھے عمل کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔