Jasarat News:
2026-06-03@00:53:45 GMT

خوشامدی کلچر: اداروں میں لگی دیمک

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260117-03-5

 

سعیدہ یاسمین

انسان کی فطرت ہے کہ وہ تعریف و تحسین کو پسند کرتا ہے اور تعریف و تحسین انسان کو اگے بڑھنے اور حوصلہ افزائی کے لیے ضروری بھی ہے۔ تعریف و تحسین اگر جائز حدود کے اندر ہو تو پسندیدہ ہے کہ اس سے اچھا کام کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اپنے کام میں مزید بہتری لاتا ہے لیکن جب یہی تعریف حد سے بڑھ جائے اور تحسین کے ایسے ایسے کلمات ارشاد فرمائے جائیں جو ممدوح کی ذات میں دور دور تک نہ ہوں بلکہ کسی شخصیت کی مدح سرائی کا مقصد صرف اور صرف ذاتی فوائد کا حصول ہو تو ایسی تعریف خوشامد کہلاتی ہے۔ گویا تعریف میں مبالغہ خوشامد ہے اور اگر کسی کی جائز تعریف و تحسین میں کمی کی جائے تو یہ حسد کی علامت ہے۔ حاسد کبھی کسی کی جائز تعریف نہیں کر سکتا کیونکہ دوسرے کی تعریف اسے دکھ پہنچاتی ہے۔ خوشامد کا مرض بے اصول، نظم و ضبط سے محروم، کام چور اور سستی و کاہلی کے شکار افراد میں پایا جاتا ہے۔ وہ اپنی ان منفی خصوصیات کے باعث عملاً کوئی کام سر انجام دیے بغیر محض چکنی چپڑی باتوں سے سربراہ ادارہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ احساس کمتری اور تعلقات کی خرابی کے ڈر سے بھی لوگ اپنے سے بلند عہدے پر فائز شخصیت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور اس کے سامنے اس کی ان پیشہ وارانہ خامیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں جو ادارے کی بہتری کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں۔ جس معاشرے میں میرٹ کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند اور سفارش عام ہو اس معاشرے کا ماحول خوشامد کے لیے زیادہ سازگار ہوتا ہے۔

کسی مغربی دانشور کا قول ہے کہ ’’ریاستیں نیکی، جذبے اور ذہین عوام کے بل بوتے پر قائم ہوتی ہیں اور تب تباہ ہوتی ہیں جب اہلیت و قابلیت کے بجائے خوشامدو چاپلوسی معیار بن جاتی ہیں‘‘۔ ہمارے ملک کو بھی اگر کوئی چیز دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے تو وہ خوشامد اور چاپلوسی کا یہ کلچر ہے جس نے ہر دور میں عروج حاصل کیا۔ پاکستان میں جس طرح ہر محکمے کے اندر سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے میرٹ کونظر انداز کیا گیا ہے اس کے باعث یہاں خوشامدی کلچر زیادہ تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ فی زمانہ دنیا میں رسمی اور غیر رسمی دو طرح کے ادارے اپنا وجود رکھتے ہیں۔ رسمی (پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج، تعلیمی اور معاشی جدوجہد کے ادارے) اور غیر رسمی (جیسے خاندان)۔ دونوں طرح کے اداروں کے اندر خوشامدی لوگ مختلف تناسب سے موجود ہوتے ہیں۔ ہمارا سیاست کا ادارہ سب سے زیادہ خوشامدیوں کے نرغے میں ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں خوشامد کی وجہ سے اہل کارکنان اور افراد کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ہر دم خوشامد کے لیے چوکس رہنے والے افراد ہی پارٹی لیڈر یا حکمرانوں کے قریب رہتے ہیں جو حکمرانوں کو سب اچھا کی نوید دیتے رہتے ہیں جس سے حکمران اپنے دور حکومت میں پنپنے والی برائیوں اور مسائل کو دیکھ ہی نہیں پاتے۔ پاکستان کی 80 سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیاسی و عسکری حکمران جب اقتدار میں تھے تو خاشامدی لوگوں نے انہیں کیسے کیسے القابات سے نوازا اور انہیں کیسے اپنے دام فریب میں الجھا کر اقتدار سے محروم کیا۔ بھٹو کو فخر ایشیا، علی کی تلوار، تیسری دنیا کا نپولین اور قائد عوام جبکہ نواز شریف کو شیر شاہ سوری اور قائداعظم ثانی، شہباز شریف کو نظام الملک طوسی، بے نظیر بھٹو کو چاروں صوبوں کی زنجیر جیسے القابات اسی خوشامد کا نتیجہ تھے ورنہ کہاں یہ شخصیات اور کہاں یہ القابات؟ اسی طرح بھٹو ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے اور ضیا الحق کو امیر المومنین کا خطاب کسی خوشامدی ہی نے دیا تھا۔ چودھری برادران مشرف کو تاحیات باوری صدر منتخب کرنے کی باتیں کرتے تھے۔ اس زمانے میں لاہور کے ایک چوک میں اس طرح کی شاعری نظر آتی تھی۔

غریبان وطن کا اب یہی منشور ہے

جو کہے پرویز مشرف وہ ہمیں منظور ہے

رہتی دنیا تک میرے مولا یہی ایکٹو رہے

زندگی بھر مسکراتا چیف ایگزیکٹو رہے

(ن) لیگ کے ایک سینئر رہنما کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے جو کبھی نواز شریف کے قریب ہوا کرتے تھے انہیں کابینہ میں شامل نہ کیا گیا تو کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ خوشامد کے بغیر یہاں آپ کی دال نہیں گلنے والی لہٰذا اجلاس میں آپ نواز شریف کی خوشامد کریں۔ اگلے کسی اجلاس میں انہوں نے دل پر جبر کر کے میاں نواز شریف کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیے۔ آخر پر انہوں نے کہا کہ میاں صاحب! آپ عوام میں بہت مقبول ہیں آپ جیسا لیڈر دور دور تک نظر نہیں آتا۔ اگلا الیکشن آپ بھاری مارجن سے جیتیں گے۔ ابھی نواز شریف اس تعریف پر کچھ بولے نہ تھے کہ ایک اور صاحب فرمانے لگے آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ صرف اگلا الیکشن؟ میاں صاحب تاحیات سب الیکشن جیتیں گے۔ یہ سن کر میاں صاحب کے چہرے پر خوشی ابھری ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور وہ صاحب شرمندہ ہو کر رہ گئے۔ بعد میں اپنے خیرخواہوں سے کہا کہ آپ بتائیں اب میں کہاں مقابلہ کر سکتا تھا؟ اگلے نے تاحیات کہہ کر بات ہی ختم کر دی تھی۔ اس کے علاوہ باقی اداروں کے اندر بھی یہ مرض عام ہے اور ہمارا تعلیم کا شعبہ جو پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل ہے اس سے مبرا نہیں ہے۔ خوشامد ایک منفی صفت ہے جو خوشامد کرنے والے اور جس کی خوشامد کی جائے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

خوشامد کرنے والے کو ایک فن ہاتھ آ جاتا ہے کہ وہ کوئی کام کیے بغیر محض باتیں کر کے اپنے باس کو خوش رکھتا ہے جس کی وجہ سے خوشامدی شخص کی صلاحیتیں روبہ زوال ہو جاتی ہیں۔ خوشامد کرنے والے اور خوشامد پرست کے علاوہ ذہین، بااصول اور پوری لگن اور جذبے سے کام کرنے والے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جب ان کے کام کی قدر نہیں کی جاتی، ان کے کام کا سارا کریڈٹ کسی اور کو دے دیا جاتا ہے تو ایسے افراد میں بد دلی اور اپنے کام کو محنت و لگن سے کرنے کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ پرائیویٹ اداروں کے بجائے سرکاری اداروں کے اندر خوشامد کا کلچر زیادہ پایا جاتا ہے۔ کیونکہ پرائیویٹ ادارے تو کارکردگی اور پیشہ وارانہ نظم و ضبط کی بنیاد پر چلتے ہیں جبکہ سرکاری اداروں کے اندر کارکردگی کا احتساب اور جوابدہی اس طرح نہیں ہوتی جیسے ہونی چاہیے کیونکہ سرکاری افسران کو تنخواہ سے غرض ہوتی ہے کارکردگی کی زیادہ فکر نہیں ہوتی۔ چونکہ خوشامد رزائل اخلاق میں سے ہے اس لیے اسلام نے اس سے منع فرمایا ہے۔

چاپلوسی کرنے والا شخص خود تین طرح کے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ ایک تو وہ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیتا ہے۔ خوشامد ریاکاری پر مبنی ہوتی ہے، اس کا مقصد صرف خوش کرنا ہوتا ہے، حقیقت سے اس کا تعلق نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ وہ جس کی تعریف کر رہا ہوتا ہے اسے خود بھی دل سے درست نہیں سمجھتا اور یہ نفاق کی علامت ہے کہ انسان کہے کچھ اور دل میں کچھ اور ہو۔ اور تیسرے یہ کہ وہ محض اپنے ذاتی فائدے کے لیے کسی کی خوشامد کر کے اس خوشامد پرست شخص کو تکبر و غرور میں مبتلا کرتا ہے اور اس کے اندر غرور جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ فرماتے ہیں۔ ’’وہ لوگ جو اپنے کرتوتْوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھْٹکارا میں نہ سمجھیے ان کے لیے تو دردناک عذاب ہے‘‘۔ سیدنا ابراہیمؑ کی جو دعا قرآن میں مذکور ہے کہ: ’’اے اللہ مجھے سچی ناموری عطا فرما‘‘ اس سے بھی یہی سبق ملتا ہے کہ حقیقت میں جو کام ہم کرتے ہیں ان کی بنیاد پر شہرت ہو تو یہ پسندیدہ ہے دوسروں کے کیے ہوئے کاموں پر اپنی تعریف اور واہ واہ کی خواہش ایک ناپسندیدہ صفت ہے اسے بچنا چاہیے۔ اسی طرح احادیث نبوی سے بھی اس کے حوالے سے ممانعت کا ثبوت ملتا ہے۔

نبی اکرمؐ نے ایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ’’تم نے اس کو برباد کر دیا‘‘۔ (بخاری) اسی طرح ایک اور موقع پر ایک شخص نے دوسرے کی حد سے زیادہ تعریف کر دی تو آپؐ نے فرمایا: ’’تم نے اپنے ساتھی کی گردن مار دی‘‘۔ روایت میں ہے کہ ایک بار ایک شخص نے سیدنا عثمانؓ کی تعریف کر دی تو سیدنا مقدادؓ نے اس کے منہ میں خاک جھونک دی اور فرمایا نبی اکرمؐ کا فرمان ہے کہ خوشامد کرنے والوں سے ملو تو ان کے منہ میں خاک جھونک دیا کرو۔ ابن الجوزیؒ کہتے مجھے اْس شخص پر تعجب ہے جو لوگوں کے لیے بناوٹ کرتا ہے تاکہ اْن کے دلوں میں جگہ بنا سکے، اور بھول جاتا ہے کہ اْن کے دل تو اللہ تعالٰی کے ہاتھ میں ہیں۔

امام جعفر صادق کا قول ہے۔ ’’خوشامدی لوگ تیرے لیے تکبر کا تخم ہیں‘‘۔ خوشامد کرنے والا اور سن کر خاموش ہونے والا دونوں کمینے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو دھوکا دیتے ہیں۔ (شیکسپیئر) جو شخص اپنی تعریف پر خوش ہوتا ہے اور خوشامد پسند کرتا ہے، پرلے درجے کا بے وقوف ہے۔ (شیخ سعدی) چاپلوس اس لیے آپ کی چاپلوسی کرتا ہے کہ وہ آپ کو بے وقوف سمجھتا ہے جبکہ آپ یہ سن کر خوش ہوتے ہیں۔ ( ٹالسٹائی) علامہ اقبال نے بھی اپنے اشعار میں خوشامد پر لطیف طنز کیا ہے فرماتے ہیں۔

میں کارِ جہاں سے نہیں آگاہ، ولیکن

اربابِ نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی راز

کر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد

دستور نیا اور نئے دور کا آغاز

معلوم نہیں ہے یہ خوشامد کہ حقیقت

کہہ دے کوئی اْلّو کو اگر رات کا شہباز

اس ساری بحث کا حاصل ہر گز یہ نہیں کہ انسان سرے سے دوسرے کی تعریف ہی نہ کرے۔ سچی تعریف اور خوشامد میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ خوشامد سر تا پا تصنع اور بناوٹ پر مبنی ہوتی ہے جبکہ جائز تعریف جو حوصلہ افزائی کی غرض سے ہوتی ہے خلوص اور ’’قول سدید‘‘ جیسے اوصاف سے مرکب ہوتی ہے۔ خوشامد کو مکمل طور پر ختم تو نہیں کیا جا سکتا لیکن میرٹ کو عام کر کے اس کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق افراد کی تربیت کر کے بھی اس مسئلے سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ جب انسان کے اندر خوف خدا پیدا ہوتا ہے تو اس یہ حقیقت سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دنیا کے حقیر اور چند روزہ فائدوں کی خاطر خوشامد جیسے برے عمل کو اختیار کرنا سراسر ہلاکت اور ایمان کے منافی ہے۔

سعیدہ یاسمین.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اداروں کے اندر تعریف و تحسین کی خوشامد کرنے والے نواز شریف ا جاتا ہے تعریف کر کی تعریف دوسرے کی نہیں کی ہوتا ہے کرتا ہے ہیں اور ہوتی ہے ہے کہ ا کے لیے ہے اور

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق