Jasarat News:
2026-07-24@03:22:33 GMT

خوشامدی کلچر: اداروں میں لگی دیمک

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260117-03-5

 

سعیدہ یاسمین

انسان کی فطرت ہے کہ وہ تعریف و تحسین کو پسند کرتا ہے اور تعریف و تحسین انسان کو اگے بڑھنے اور حوصلہ افزائی کے لیے ضروری بھی ہے۔ تعریف و تحسین اگر جائز حدود کے اندر ہو تو پسندیدہ ہے کہ اس سے اچھا کام کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اپنے کام میں مزید بہتری لاتا ہے لیکن جب یہی تعریف حد سے بڑھ جائے اور تحسین کے ایسے ایسے کلمات ارشاد فرمائے جائیں جو ممدوح کی ذات میں دور دور تک نہ ہوں بلکہ کسی شخصیت کی مدح سرائی کا مقصد صرف اور صرف ذاتی فوائد کا حصول ہو تو ایسی تعریف خوشامد کہلاتی ہے۔ گویا تعریف میں مبالغہ خوشامد ہے اور اگر کسی کی جائز تعریف و تحسین میں کمی کی جائے تو یہ حسد کی علامت ہے۔ حاسد کبھی کسی کی جائز تعریف نہیں کر سکتا کیونکہ دوسرے کی تعریف اسے دکھ پہنچاتی ہے۔ خوشامد کا مرض بے اصول، نظم و ضبط سے محروم، کام چور اور سستی و کاہلی کے شکار افراد میں پایا جاتا ہے۔ وہ اپنی ان منفی خصوصیات کے باعث عملاً کوئی کام سر انجام دیے بغیر محض چکنی چپڑی باتوں سے سربراہ ادارہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ احساس کمتری اور تعلقات کی خرابی کے ڈر سے بھی لوگ اپنے سے بلند عہدے پر فائز شخصیت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور اس کے سامنے اس کی ان پیشہ وارانہ خامیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں جو ادارے کی بہتری کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں۔ جس معاشرے میں میرٹ کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند اور سفارش عام ہو اس معاشرے کا ماحول خوشامد کے لیے زیادہ سازگار ہوتا ہے۔

کسی مغربی دانشور کا قول ہے کہ ’’ریاستیں نیکی، جذبے اور ذہین عوام کے بل بوتے پر قائم ہوتی ہیں اور تب تباہ ہوتی ہیں جب اہلیت و قابلیت کے بجائے خوشامدو چاپلوسی معیار بن جاتی ہیں‘‘۔ ہمارے ملک کو بھی اگر کوئی چیز دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے تو وہ خوشامد اور چاپلوسی کا یہ کلچر ہے جس نے ہر دور میں عروج حاصل کیا۔ پاکستان میں جس طرح ہر محکمے کے اندر سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے میرٹ کونظر انداز کیا گیا ہے اس کے باعث یہاں خوشامدی کلچر زیادہ تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ فی زمانہ دنیا میں رسمی اور غیر رسمی دو طرح کے ادارے اپنا وجود رکھتے ہیں۔ رسمی (پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج، تعلیمی اور معاشی جدوجہد کے ادارے) اور غیر رسمی (جیسے خاندان)۔ دونوں طرح کے اداروں کے اندر خوشامدی لوگ مختلف تناسب سے موجود ہوتے ہیں۔ ہمارا سیاست کا ادارہ سب سے زیادہ خوشامدیوں کے نرغے میں ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں خوشامد کی وجہ سے اہل کارکنان اور افراد کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ہر دم خوشامد کے لیے چوکس رہنے والے افراد ہی پارٹی لیڈر یا حکمرانوں کے قریب رہتے ہیں جو حکمرانوں کو سب اچھا کی نوید دیتے رہتے ہیں جس سے حکمران اپنے دور حکومت میں پنپنے والی برائیوں اور مسائل کو دیکھ ہی نہیں پاتے۔ پاکستان کی 80 سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیاسی و عسکری حکمران جب اقتدار میں تھے تو خاشامدی لوگوں نے انہیں کیسے کیسے القابات سے نوازا اور انہیں کیسے اپنے دام فریب میں الجھا کر اقتدار سے محروم کیا۔ بھٹو کو فخر ایشیا، علی کی تلوار، تیسری دنیا کا نپولین اور قائد عوام جبکہ نواز شریف کو شیر شاہ سوری اور قائداعظم ثانی، شہباز شریف کو نظام الملک طوسی، بے نظیر بھٹو کو چاروں صوبوں کی زنجیر جیسے القابات اسی خوشامد کا نتیجہ تھے ورنہ کہاں یہ شخصیات اور کہاں یہ القابات؟ اسی طرح بھٹو ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے اور ضیا الحق کو امیر المومنین کا خطاب کسی خوشامدی ہی نے دیا تھا۔ چودھری برادران مشرف کو تاحیات باوری صدر منتخب کرنے کی باتیں کرتے تھے۔ اس زمانے میں لاہور کے ایک چوک میں اس طرح کی شاعری نظر آتی تھی۔

غریبان وطن کا اب یہی منشور ہے

جو کہے پرویز مشرف وہ ہمیں منظور ہے

رہتی دنیا تک میرے مولا یہی ایکٹو رہے

زندگی بھر مسکراتا چیف ایگزیکٹو رہے

(ن) لیگ کے ایک سینئر رہنما کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے جو کبھی نواز شریف کے قریب ہوا کرتے تھے انہیں کابینہ میں شامل نہ کیا گیا تو کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ خوشامد کے بغیر یہاں آپ کی دال نہیں گلنے والی لہٰذا اجلاس میں آپ نواز شریف کی خوشامد کریں۔ اگلے کسی اجلاس میں انہوں نے دل پر جبر کر کے میاں نواز شریف کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیے۔ آخر پر انہوں نے کہا کہ میاں صاحب! آپ عوام میں بہت مقبول ہیں آپ جیسا لیڈر دور دور تک نظر نہیں آتا۔ اگلا الیکشن آپ بھاری مارجن سے جیتیں گے۔ ابھی نواز شریف اس تعریف پر کچھ بولے نہ تھے کہ ایک اور صاحب فرمانے لگے آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ صرف اگلا الیکشن؟ میاں صاحب تاحیات سب الیکشن جیتیں گے۔ یہ سن کر میاں صاحب کے چہرے پر خوشی ابھری ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور وہ صاحب شرمندہ ہو کر رہ گئے۔ بعد میں اپنے خیرخواہوں سے کہا کہ آپ بتائیں اب میں کہاں مقابلہ کر سکتا تھا؟ اگلے نے تاحیات کہہ کر بات ہی ختم کر دی تھی۔ اس کے علاوہ باقی اداروں کے اندر بھی یہ مرض عام ہے اور ہمارا تعلیم کا شعبہ جو پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل ہے اس سے مبرا نہیں ہے۔ خوشامد ایک منفی صفت ہے جو خوشامد کرنے والے اور جس کی خوشامد کی جائے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

خوشامد کرنے والے کو ایک فن ہاتھ آ جاتا ہے کہ وہ کوئی کام کیے بغیر محض باتیں کر کے اپنے باس کو خوش رکھتا ہے جس کی وجہ سے خوشامدی شخص کی صلاحیتیں روبہ زوال ہو جاتی ہیں۔ خوشامد کرنے والے اور خوشامد پرست کے علاوہ ذہین، بااصول اور پوری لگن اور جذبے سے کام کرنے والے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جب ان کے کام کی قدر نہیں کی جاتی، ان کے کام کا سارا کریڈٹ کسی اور کو دے دیا جاتا ہے تو ایسے افراد میں بد دلی اور اپنے کام کو محنت و لگن سے کرنے کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ پرائیویٹ اداروں کے بجائے سرکاری اداروں کے اندر خوشامد کا کلچر زیادہ پایا جاتا ہے۔ کیونکہ پرائیویٹ ادارے تو کارکردگی اور پیشہ وارانہ نظم و ضبط کی بنیاد پر چلتے ہیں جبکہ سرکاری اداروں کے اندر کارکردگی کا احتساب اور جوابدہی اس طرح نہیں ہوتی جیسے ہونی چاہیے کیونکہ سرکاری افسران کو تنخواہ سے غرض ہوتی ہے کارکردگی کی زیادہ فکر نہیں ہوتی۔ چونکہ خوشامد رزائل اخلاق میں سے ہے اس لیے اسلام نے اس سے منع فرمایا ہے۔

چاپلوسی کرنے والا شخص خود تین طرح کے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ ایک تو وہ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیتا ہے۔ خوشامد ریاکاری پر مبنی ہوتی ہے، اس کا مقصد صرف خوش کرنا ہوتا ہے، حقیقت سے اس کا تعلق نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ وہ جس کی تعریف کر رہا ہوتا ہے اسے خود بھی دل سے درست نہیں سمجھتا اور یہ نفاق کی علامت ہے کہ انسان کہے کچھ اور دل میں کچھ اور ہو۔ اور تیسرے یہ کہ وہ محض اپنے ذاتی فائدے کے لیے کسی کی خوشامد کر کے اس خوشامد پرست شخص کو تکبر و غرور میں مبتلا کرتا ہے اور اس کے اندر غرور جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ فرماتے ہیں۔ ’’وہ لوگ جو اپنے کرتوتْوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھْٹکارا میں نہ سمجھیے ان کے لیے تو دردناک عذاب ہے‘‘۔ سیدنا ابراہیمؑ کی جو دعا قرآن میں مذکور ہے کہ: ’’اے اللہ مجھے سچی ناموری عطا فرما‘‘ اس سے بھی یہی سبق ملتا ہے کہ حقیقت میں جو کام ہم کرتے ہیں ان کی بنیاد پر شہرت ہو تو یہ پسندیدہ ہے دوسروں کے کیے ہوئے کاموں پر اپنی تعریف اور واہ واہ کی خواہش ایک ناپسندیدہ صفت ہے اسے بچنا چاہیے۔ اسی طرح احادیث نبوی سے بھی اس کے حوالے سے ممانعت کا ثبوت ملتا ہے۔

نبی اکرمؐ نے ایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ’’تم نے اس کو برباد کر دیا‘‘۔ (بخاری) اسی طرح ایک اور موقع پر ایک شخص نے دوسرے کی حد سے زیادہ تعریف کر دی تو آپؐ نے فرمایا: ’’تم نے اپنے ساتھی کی گردن مار دی‘‘۔ روایت میں ہے کہ ایک بار ایک شخص نے سیدنا عثمانؓ کی تعریف کر دی تو سیدنا مقدادؓ نے اس کے منہ میں خاک جھونک دی اور فرمایا نبی اکرمؐ کا فرمان ہے کہ خوشامد کرنے والوں سے ملو تو ان کے منہ میں خاک جھونک دیا کرو۔ ابن الجوزیؒ کہتے مجھے اْس شخص پر تعجب ہے جو لوگوں کے لیے بناوٹ کرتا ہے تاکہ اْن کے دلوں میں جگہ بنا سکے، اور بھول جاتا ہے کہ اْن کے دل تو اللہ تعالٰی کے ہاتھ میں ہیں۔

امام جعفر صادق کا قول ہے۔ ’’خوشامدی لوگ تیرے لیے تکبر کا تخم ہیں‘‘۔ خوشامد کرنے والا اور سن کر خاموش ہونے والا دونوں کمینے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو دھوکا دیتے ہیں۔ (شیکسپیئر) جو شخص اپنی تعریف پر خوش ہوتا ہے اور خوشامد پسند کرتا ہے، پرلے درجے کا بے وقوف ہے۔ (شیخ سعدی) چاپلوس اس لیے آپ کی چاپلوسی کرتا ہے کہ وہ آپ کو بے وقوف سمجھتا ہے جبکہ آپ یہ سن کر خوش ہوتے ہیں۔ ( ٹالسٹائی) علامہ اقبال نے بھی اپنے اشعار میں خوشامد پر لطیف طنز کیا ہے فرماتے ہیں۔

میں کارِ جہاں سے نہیں آگاہ، ولیکن

اربابِ نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی راز

کر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد

دستور نیا اور نئے دور کا آغاز

معلوم نہیں ہے یہ خوشامد کہ حقیقت

کہہ دے کوئی اْلّو کو اگر رات کا شہباز

اس ساری بحث کا حاصل ہر گز یہ نہیں کہ انسان سرے سے دوسرے کی تعریف ہی نہ کرے۔ سچی تعریف اور خوشامد میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ خوشامد سر تا پا تصنع اور بناوٹ پر مبنی ہوتی ہے جبکہ جائز تعریف جو حوصلہ افزائی کی غرض سے ہوتی ہے خلوص اور ’’قول سدید‘‘ جیسے اوصاف سے مرکب ہوتی ہے۔ خوشامد کو مکمل طور پر ختم تو نہیں کیا جا سکتا لیکن میرٹ کو عام کر کے اس کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق افراد کی تربیت کر کے بھی اس مسئلے سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ جب انسان کے اندر خوف خدا پیدا ہوتا ہے تو اس یہ حقیقت سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دنیا کے حقیر اور چند روزہ فائدوں کی خاطر خوشامد جیسے برے عمل کو اختیار کرنا سراسر ہلاکت اور ایمان کے منافی ہے۔

سعیدہ یاسمین.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اداروں کے اندر تعریف و تحسین کی خوشامد کرنے والے نواز شریف ا جاتا ہے تعریف کر کی تعریف دوسرے کی نہیں کی ہوتا ہے کرتا ہے ہیں اور ہوتی ہے ہے کہ ا کے لیے ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف