ملک کے تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی پختہ تر عمر کا مرد یا خاتون موجود ہوتی ہے۔ انھیں بوڑھا مرد یا بوڑھی خاتون بھی کہہ سکتے ہیں۔ کثیرعمر کے مالک یہ افراد اکثر اوقات مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بستر کے ساتھ والی میز پر دوائیاں‘ شربت اور چھوٹے چمچ اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ کھانستے بھی زیادہ ہیں۔ بلغم نکالنے کی کامیاب یا ناکام کوشش بھی ہوتی رہتی ہے۔ انھی میں سے اکثر لوگ‘ بوز وبراز پربھی قدرتی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔
انھیں پیمپر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے باوجود‘ ان کا بستر خشک نہیں رہتا۔ ہزاروں یا لاکھوں انسانوں کا ذکر نہیں کر رہا ۔ ہمارے ملک میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ آپ انھیںکوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ بزرگ‘ قبر میں پیر لٹکائے ہوئے افراد‘ موت کے منتظر یا کوئی بھی عنوان۔ غور فرمائیے۔ یہ لوگ‘ عملی زندگی میں اپنے اپنے اہل خانہ کا مستقبل بنانے کے لیے زندگی قربان کر چکے ہوتے ہیں۔ چہروں کی جھریوں میں مشقت ‘ محنت اور ریاضت کے وہ تکلیف دہ مراحل چھپے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کسی کو بھی علم نہیں ہوتا۔ دراصل بدن اور مونہہ پر لٹکتی ہوئی کھال کی ایک ایک لکیر کے اندر‘ ان گنت خاموش کہانیاں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ جن کا ذکر کوئی بھی نہیں کرتا۔ وہ خود بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں بتاتے‘ کہ پینتیس سے چالیس برس‘ اپنے بچوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کس خوفناک آگ میں جھلستے رہے ہیں۔
دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ اولاد‘ انھیں پرانے فرنیچر کی طرح بیکارسمجھ کر کسی ایسے کونے میں منتقل کر دیتی ہے جہاں وہ کسی کو بھی کم سے کم نظر آئیں۔ انھیں مہمانوں سے بھی زیادہ نہیں ملایا جاتا۔ شاید میری گزارشات غیر مناسب لگیں۔ مگر یہ جملے‘ حقیقت کے قریب تر ہیں۔ تصویر کا صرف ایک رخ بتایا ہے۔ ویسے‘ اب تک کوئی ایسا معاملہ نہیں جو آپ کے علم میں نہ ہو۔ چند دوسرے رخ بھی ہیں۔ بلکہ بہت سی معلوم نہ ہونے والی جہتیں بھی ہیں۔ یہ بوڑھے مرد اور خواتین اس وقت تک نہیں سوتے جب تک ان کی اولاد واپس گھر نہیں آ جاتی۔
ان کی آنکھیں دروازے کی طرف مسلسل لگی رہتی ہیں۔ کان‘ اپنے پیاروں کے پیروں کی مانوس چاپ سننے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔ جب تک اہل خانہ واپس نہیں آتے ، یہ بتائے بغیر ان کے شدت سے منتظر رہتے ہیں۔ ظاہر نہیں کرتے مگر ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب ان کے بچے اور بچیاں‘ خیریت سے گھر واپس آ جائیں۔یہ ترستے رہتے ہیں کہ کوئی پیارا ‘ نزدیک بیٹھے۔ ان کا حال پوچھے ‘ ان کی ماضی کی کہانیاں سنے۔ ان کے لکیروں سے بھرے چہروں پر مسکراہٹ کے چند پل لے آئے۔ وہ ہنسنا چاہتے ہیں۔ یقین فرمائیے کہ وہ ہر وقت عبادت کر کر کے بھی تھک چکے ہوتے ہیں۔ انھیں پوتے‘ پوتیوں‘ نواسے نواسیوں میں اپنا عکس محسوس ہوتا ہے۔اس پرچھائی کو دیکھتے ہی شاداب ہو جاتے ہیں۔
سب سے اہم عنصر کے متعلق اکثر نوجوان لوگ بہت کم سوچتے ہیں۔ وہ نکتہ سب سے اہم ہے بلکہ یہ عرض کروں گا کہ حاصل مضمون ہی وہی ہے۔ دراصل بزرگوں کی دعائیں وہ طاقت ہیں‘ جس کی بدولت‘ ان کے گھر والے ہر مصیبت سے محفوظ رہتے ہیں۔ دعائیں دل سے نہیں‘ ان کی روح کی گہرائیوں سے نکلتی ہیں جو سیدھی عرش پر پہنچتی ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں ‘ ان کے اٹھے ہوئے ہاتھ ‘ کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ سجدوں میں اپنی اولاد کے لیے‘ رو رو کر دعائیں‘ قبولیت سے سرفراز ہوتی ہیں ۔ خدا اور قدرت بلکہ ہر چیز ‘ ان کے برگزیدہ الفاظ کی لاج رکھتی ہے۔ جناب‘ مانیے یا نہ مانیے ۔ خدارا‘رد نہ کیجیے۔ گھر میں موجود بزرگوں کی دعائیں‘ ہمارے لیے سب سے انمول خزانہ ہے۔ ہیروں اور سونے کی ایسی کان ‘ جس کی گہرائی کا اندازہ اولاد کو ہو ہی نہیں سکتا۔
شاید میری گزارشات اجنبی سی لگیں۔ مجھے ایک رشتہ‘ محض ایک رشتہ ایسا دیکھا دیجیے جس کی بنیاد میں اتنی شدت کی محبت اور خلوص موجود ہو؟ ہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں جس کا ذکر بہت کم ہی ہوتا ہے۔ میاں بیوی کا باہمی رشتہ‘وابستگی اور قربت کا ہے۔ مگر ذرا سوچیے اس کی بنیاد کیا ہے؟ ہمارے جیسے معاشروں میں اسے زیادہ سے زیادہ ایک ’’سوشل کنٹرکٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے جس کی فطری ضرورت ہے۔ یہ باہمی ضروریات کا خیال رکھنے سے جڑا ہوا ہے۔ لاکھ چاہتے ہوئے بھی‘ اس میں خلوص کی وہ گہرائی نہیں جو کہ ماں باپ کے تعلق میں ہوتی ہے۔ اب تو جتنا مصنوعی دور آ گیا ہے اس میں شوہر اور اہلیہ کا تعلق بھی پیسے سے منسلک نظر آتا ہے۔ طلاق کی شرح‘ بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
ہر لڑکی کی شادی کے بعد‘ صرف ایک خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اسے ہر وہ سہولت دے جس کا اس نے خواب دیکھا ہے۔ اکثر خواتین اس سنجیدہ امر کا ادراک نہیں کرتیںکہ خاوند کے مالی وسائل کتنے ہیں۔ وہ توازن نہیں بلکہ خواہشات کی تکمیل کو بنیاد بنا کر ‘ ازدواجی رشتے کو کامیاب کرنا چاہتی ہیں۔ بھرپور اختیار ہے کہ آپ میرے استدلال کو تسلیم نہ کریں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہی نظر آتی ہے۔ آج کل کی لڑکیاں ‘ جب بہو بنتی ہیں تو ان کی جائز خواہشات کو پورا کرنا‘ مرد کی ذمے داری ہے۔یہ بالکل درست بات ہے۔ مگر متعدد ایسی حسرتیں بھی سامنے آتی ہیں جو شوہر کی مالی استعداد سے باہر ہوتی ہیں۔ یہیں سے باہمی تلخیاں شروع ہوتی ہیں۔ جن کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔اس کے بالکل متضاد‘ ایک مقدس رشتہ ایسا ضرور ہے جو صرف اور صرف محبت‘ رواداری اور عشق پر استوار ہے اور وہ ہے ماں باپ کا دائمی رشتہ۔ ایک بات مزید سمجھنے کی ہے۔ قدرت نے یہ تعلق‘ اکثر اوقات یک طرفہ رکھا ہے۔
اولاد کو اپنے بزرگوں سے وہ محبت نہیں ہوتی‘ جو انھیں اپنی اولاد سے روا ہوتی ہے۔ اکثریت کی بابت عرض کر رہا ہوں۔ اب تو یہاں تک دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اولاد بڑے شہروں میں اپنے بزرگوں کو ’’اولڈ ہوم‘‘ میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اس کے بعد‘ سالہاسال ‘ ان کی خبر گیری کے لیے بھی واپس نہیں آتے۔ مغرب میں تو خیر ’’اولڈہوم‘‘ ایک ٹھوس سماجی حقیقت ہے۔ مگر ہمارے ملک میں جس کی معاشرتی اساس مغرب سے مختلف ہے۔ یہاں یہ چلن ‘ کم از کم میرے جیسے طالب علم کی سمجھ سے یکسر باہر ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ والدین جس کی بدولت خدا نے آپ کو دنیا میں پیدا کیا۔ جنہوں نے ہر تکلیف اٹھا کر آپ کو پالا پوسا۔ ضعیف ہونے پر انھیں بوجھ سمجھ لیا جائے اور انھیں ایک ایسی جگہ منتقل کر دیاجائے جہاں ان کے لیے کوئی آرام یا سکون کا وجود ہی نہ ہو۔ بہرحال میں اس قبیح فعل کو اولاد کی نافرمانی کے علاوہ دوسرا کوئی لفظ نہیں دے سکتا۔
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ہمارے سماج میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ان کو کسی بھی طریقے سے روکنا ناممکن ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا کی چکا چوند‘ آنکھیں خیرہ کر چکی ہیں۔ اس تبدیلی کو تسلیم کرنا چاہیے‘ مگر ‘ ان سے آپ کے نزدیک ترین رشتوں کی اہمیت میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہونی چاہیے۔ توازن ہی اصل زندگی ہے۔ معمولی سے غیر متوازن رویے سے گھر کی بنیادیں ہل جاتی ہیں ۔ خاندان تباہ ہو سکتے ہیں۔ آپ کو نقصان کا احساس تک نہیں ہو پاتا۔ جب معاملات کی سمجھ آتی ہے تو والدین منوں مٹی کے نیچے آسودہ ہوتے ہیں۔ دراصل سب کچھ گھرکے سربراہ پر منحصر ہوتا ہے۔
اگر وہ‘ اپنے بزرگوں کی خدمت کو اہمیت دیتا ہے تو اس سے منسلک تمام لوگ‘ اس کی عملی پیروی کریں گے۔ مگر یہاں تو ایسے نادان بچے بچیاں بھی ہیں جو اپنے بزرگوں کے لیے بروقت دوائی لانے کو بھی بوجھ تصور کرتے ہیں۔ جو ان کی خوشی کا بالکل خیال نہیں رکھتے۔ جو ان سے ہر وقت جلی کٹی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے آرام کا قطعاً لحاظ نہیں رکھتے۔ ان سے منفی بحث کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔ یقین ہے کہ جب وہ بوڑھے ہونگے تو‘ ان کے ساتھ ‘ ان کی اولاد وہی ناروا سلوک روا رکھے گی جو انھوں نے اپنے والدین کے ساتھ رکھا تھا۔ بدی ہمیشہ پلٹ کر آتی ہے اور کرنے والے کو کسی نہ کسی وقت‘ اپنا شکار ضرور بناتی ہے۔ اس لمحے سے ڈرئیے جب آپ کی نافرمانی کا بدلہ‘ قدرت آپ سے لے گی۔
اپنے بوڑھے بلکہ ضعیف والدین کو اپنی زندگی کا محور بنایئے۔ جتنے مرضی تھک ہار کر گھر واپس آئیں ۔ ان کے پاس ضرور جائیں۔ ان کو بچپن سے لے کر اب تک‘ وہ تمام واقعات سنائیں جنھیں سن کر وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ ان کے تھکے ہوئے چہروں کی مسکراہٹ آپ کے لیے ان گنت درکھول دے گی۔ قدرت آپ کی مدد کے لیے بذات خود ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔ اپنے والدین کی پسند کی کوئی بھی چیز یا تحفہ لایئے۔ قیمت بے معنی ہے۔ سستے اور مہنگے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھیں احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ قہقہے لگائیں۔ اگر وہ وہیل چیئر پر ہیں تو انھیں ہر ہفتہ کسی باغ میں سیر کروائیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ان کی زندگی کو بہتر بنا دیں گے اور آپ کو بیٹھے بٹھائے ‘ دعاؤں کا خزانہ حاصل ہو جائے گا۔ اس کلیے کو آزما کر تو دیکھیئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپنے بزرگوں ہوتی ہیں کوئی بھی ہوتے ہیں رہتے ہیں نہیں کر کے ساتھ نہیں ہو ہوتی ہے کے لیے ہیں جو
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔