Express News:
2026-07-24@05:25:33 GMT

دعاؤں کا خزانہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

ملک کے تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی پختہ تر عمر کا مرد یا خاتون موجود ہوتی ہے۔ انھیں بوڑھا مرد یا بوڑھی خاتون بھی کہہ سکتے ہیں۔ کثیرعمر کے مالک یہ افراد اکثر اوقات مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بستر کے ساتھ والی میز پر دوائیاں‘ شربت اور چھوٹے چمچ اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ کھانستے بھی زیادہ ہیں۔ بلغم نکالنے کی کامیاب یا ناکام کوشش بھی ہوتی رہتی ہے۔ انھی میں سے اکثر لوگ‘ بوز وبراز پربھی قدرتی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔

انھیں پیمپر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے باوجود‘ ان کا بستر خشک نہیں رہتا۔ ہزاروں یا لاکھوں انسانوں کا ذکر نہیں کر رہا ۔ ہمارے ملک میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ آپ انھیںکوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ بزرگ‘  قبر میں پیر لٹکائے ہوئے افراد‘ موت کے منتظر یا کوئی بھی عنوان۔ غور فرمائیے۔ یہ لوگ‘ عملی زندگی میں اپنے اپنے اہل خانہ کا مستقبل بنانے کے لیے زندگی قربان کر چکے ہوتے ہیں۔ چہروں کی جھریوں میں مشقت ‘ محنت اور ریاضت کے وہ تکلیف دہ مراحل چھپے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کسی کو بھی علم نہیں ہوتا۔ دراصل بدن اور مونہہ پر لٹکتی ہوئی کھال کی ایک ایک لکیر کے اندر‘ ان گنت خاموش کہانیاں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ جن کا ذکر کوئی بھی نہیں کرتا۔ وہ خود بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں بتاتے‘ کہ پینتیس سے چالیس برس‘ اپنے بچوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کس خوفناک آگ میں جھلستے رہے ہیں۔

دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ اولاد‘ انھیں پرانے فرنیچر کی طرح بیکارسمجھ کر کسی ایسے کونے میں منتقل کر  دیتی ہے جہاں وہ کسی کو بھی کم سے کم نظر آئیں۔ انھیں مہمانوں سے بھی زیادہ نہیں ملایا جاتا۔ شاید میری گزارشات غیر مناسب لگیں۔ مگر یہ جملے‘ حقیقت کے قریب تر ہیں۔ تصویر کا صرف ایک رخ بتایا ہے۔ ویسے‘ اب تک کوئی ایسا معاملہ نہیں جو آپ کے علم میں نہ ہو۔ چند دوسرے رخ بھی ہیں۔ بلکہ بہت سی معلوم نہ ہونے والی جہتیں بھی ہیں۔ یہ بوڑھے مرد اور خواتین اس وقت تک نہیں سوتے جب تک ان کی اولاد واپس گھر نہیں آ جاتی۔

ان کی آنکھیں دروازے کی طرف مسلسل لگی رہتی ہیں۔ کان‘ اپنے پیاروں کے پیروں کی مانوس چاپ سننے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔ جب تک اہل خانہ واپس نہیں آتے ، یہ بتائے بغیر ان کے شدت سے منتظر رہتے ہیں۔ ظاہر نہیں کرتے مگر ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب ان کے بچے اور بچیاں‘ خیریت سے گھر واپس آ جائیں۔یہ ترستے رہتے ہیں کہ کوئی پیارا ‘ نزدیک بیٹھے۔ ان کا حال پوچھے ‘ ان کی ماضی کی کہانیاں سنے۔ ان کے لکیروں سے بھرے چہروں پر مسکراہٹ کے چند پل لے آئے۔ وہ ہنسنا چاہتے ہیں۔ یقین فرمائیے کہ وہ ہر وقت عبادت کر کر کے بھی تھک چکے ہوتے ہیں۔ انھیں پوتے‘ پوتیوں‘ نواسے نواسیوں میں اپنا عکس محسوس ہوتا ہے۔اس پرچھائی کو دیکھتے ہی شاداب ہو جاتے ہیں۔

سب سے اہم عنصر کے متعلق اکثر نوجوان لوگ بہت کم سوچتے ہیں۔ وہ نکتہ سب سے اہم ہے بلکہ یہ عرض کروں گا کہ حاصل مضمون ہی وہی ہے۔ دراصل بزرگوں کی دعائیں وہ طاقت ہیں‘ جس کی بدولت‘ ان کے گھر والے ہر مصیبت سے محفوظ رہتے ہیں۔ دعائیں دل سے نہیں‘ ان کی روح کی گہرائیوں سے نکلتی ہیں جو سیدھی عرش پر پہنچتی ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں ‘ ان کے اٹھے ہوئے ہاتھ ‘ کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ سجدوں میں اپنی اولاد کے لیے‘ رو رو کر دعائیں‘ قبولیت سے سرفراز ہوتی ہیں ۔ خدا اور قدرت بلکہ ہر چیز ‘ ان کے برگزیدہ الفاظ کی لاج رکھتی ہے۔ جناب‘ مانیے یا نہ مانیے ۔ خدارا‘رد نہ کیجیے۔ گھر میں موجود بزرگوں کی دعائیں‘ ہمارے لیے سب سے انمول خزانہ ہے۔ ہیروں اور سونے کی ایسی کان ‘ جس کی گہرائی کا اندازہ اولاد کو ہو ہی نہیں سکتا۔

شاید میری گزارشات اجنبی سی لگیں۔ مجھے ایک رشتہ‘ محض ایک رشتہ ایسا دیکھا دیجیے جس کی بنیاد میں اتنی شدت کی محبت اور خلوص موجود ہو؟ ہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں جس کا ذکر بہت کم ہی ہوتا ہے۔ میاں بیوی کا باہمی رشتہ‘وابستگی اور قربت کا ہے۔ مگر ذرا سوچیے اس کی بنیاد کیا ہے؟ ہمارے جیسے معاشروں میں اسے زیادہ سے زیادہ ایک ’’سوشل کنٹرکٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے جس کی فطری ضرورت ہے۔ یہ باہمی ضروریات کا خیال رکھنے سے جڑا ہوا ہے۔ لاکھ چاہتے ہوئے بھی‘ اس میں خلوص کی وہ گہرائی نہیں جو کہ ماں باپ کے تعلق میں ہوتی ہے۔ اب تو جتنا مصنوعی دور آ گیا ہے اس میں شوہر اور اہلیہ کا تعلق بھی پیسے سے منسلک نظر آتا ہے۔ طلاق کی شرح‘ بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ہر لڑکی کی شادی کے بعد‘ صرف ایک خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اسے ہر وہ سہولت دے جس کا اس نے خواب دیکھا ہے۔ اکثر خواتین اس سنجیدہ امر کا ادراک نہیں کرتیںکہ خاوند کے مالی وسائل کتنے ہیں۔ وہ توازن نہیں بلکہ خواہشات کی تکمیل کو بنیاد بنا کر ‘ ازدواجی رشتے کو کامیاب کرنا چاہتی ہیں۔ بھرپور اختیار ہے کہ آپ میرے استدلال کو تسلیم نہ کریں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہی نظر آتی ہے۔ آج کل کی لڑکیاں ‘ جب بہو بنتی ہیں تو ان کی جائز خواہشات کو پورا کرنا‘ مرد کی ذمے داری ہے۔یہ بالکل درست بات ہے۔ مگر متعدد ایسی حسرتیں بھی سامنے آتی ہیں جو شوہر کی مالی استعداد سے باہر ہوتی ہیں۔ یہیں سے باہمی تلخیاں شروع ہوتی ہیں۔ جن کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔اس کے بالکل متضاد‘ ایک مقدس رشتہ ایسا ضرور ہے جو صرف اور صرف محبت‘ رواداری اور عشق پر استوار ہے اور وہ ہے ماں باپ کا دائمی رشتہ۔ ایک بات مزید سمجھنے کی ہے۔ قدرت نے یہ تعلق‘ اکثر اوقات یک طرفہ رکھا ہے۔

اولاد کو اپنے بزرگوں سے وہ محبت نہیں ہوتی‘ جو انھیں اپنی اولاد سے روا ہوتی ہے۔ اکثریت کی بابت عرض کر رہا ہوں۔ اب تو یہاں تک دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اولاد بڑے شہروں میں اپنے بزرگوں کو ’’اولڈ ہوم‘‘ میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اس کے بعد‘ سالہاسال ‘ ان کی خبر گیری کے لیے بھی واپس نہیں آتے۔ مغرب میں تو خیر ’’اولڈہوم‘‘ ایک ٹھوس سماجی حقیقت ہے۔ مگر ہمارے ملک میں جس کی معاشرتی اساس مغرب سے مختلف ہے۔ یہاں یہ چلن ‘ کم از کم میرے جیسے طالب علم کی سمجھ سے یکسر باہر ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ والدین جس کی بدولت خدا نے آپ کو دنیا میں پیدا کیا۔ جنہوں نے ہر تکلیف اٹھا کر آپ کو پالا پوسا۔ ضعیف ہونے پر انھیں بوجھ سمجھ لیا جائے اور انھیں ایک ایسی جگہ منتقل کر دیاجائے جہاں ان کے لیے کوئی آرام یا سکون کا وجود ہی نہ ہو۔ بہرحال میں اس قبیح فعل کو اولاد کی نافرمانی کے علاوہ دوسرا کوئی لفظ نہیں دے سکتا۔

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ہمارے سماج میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ان کو کسی بھی طریقے سے روکنا ناممکن ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا کی چکا چوند‘ آنکھیں خیرہ کر چکی ہیں۔ اس تبدیلی کو تسلیم کرنا چاہیے‘ مگر ‘ ان سے آپ کے نزدیک ترین رشتوں کی اہمیت میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہونی چاہیے۔ توازن ہی اصل زندگی ہے۔ معمولی سے غیر متوازن رویے سے گھر کی بنیادیں ہل جاتی ہیں ۔ خاندان تباہ ہو سکتے ہیں۔ آپ کو نقصان کا احساس تک نہیں ہو پاتا۔ جب معاملات کی سمجھ آتی ہے تو والدین منوں مٹی کے نیچے آسودہ ہوتے ہیں۔ دراصل سب کچھ گھرکے سربراہ پر منحصر ہوتا ہے۔

اگر وہ‘ اپنے بزرگوں کی خدمت کو اہمیت دیتا ہے تو اس سے منسلک تمام لوگ‘ اس کی عملی پیروی کریں گے۔ مگر یہاں تو ایسے نادان بچے بچیاں بھی ہیں جو اپنے بزرگوں کے لیے بروقت دوائی لانے کو بھی بوجھ تصور کرتے ہیں۔ جو ان کی خوشی کا بالکل خیال نہیں رکھتے۔ جو ان سے ہر وقت جلی کٹی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے آرام کا قطعاً لحاظ نہیں رکھتے۔ ان سے منفی بحث کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔ یقین ہے کہ جب وہ بوڑھے ہونگے تو‘ ان کے ساتھ ‘ ان کی اولاد وہی ناروا سلوک روا رکھے گی جو انھوں نے اپنے والدین کے ساتھ رکھا تھا۔ بدی ہمیشہ پلٹ کر آتی ہے اور کرنے والے کو کسی نہ کسی وقت‘ اپنا شکار ضرور بناتی ہے۔ اس لمحے سے ڈرئیے جب آپ کی نافرمانی کا بدلہ‘ قدرت آپ سے لے گی۔

اپنے بوڑھے بلکہ ضعیف والدین کو اپنی زندگی کا محور بنایئے۔ جتنے مرضی تھک ہار کر گھر واپس آئیں ۔ ان کے پاس ضرور جائیں۔ ان کو بچپن سے لے کر اب تک‘ وہ تمام واقعات سنائیں جنھیں سن کر وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ ان کے تھکے ہوئے چہروں کی مسکراہٹ آپ کے لیے ان گنت درکھول دے گی۔ قدرت آپ کی مدد کے لیے بذات خود ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔ اپنے والدین کی پسند کی کوئی بھی چیز یا تحفہ لایئے۔ قیمت بے معنی ہے۔ سستے اور مہنگے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھیں احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ قہقہے لگائیں۔ اگر وہ وہیل چیئر پر ہیں تو انھیں ہر ہفتہ کسی باغ میں سیر کروائیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ان کی زندگی کو بہتر بنا دیں گے  اور آپ کو بیٹھے بٹھائے ‘ دعاؤں کا خزانہ حاصل ہو جائے گا۔ اس کلیے کو آزما کر تو دیکھیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اپنے بزرگوں ہوتی ہیں کوئی بھی ہوتے ہیں رہتے ہیں نہیں کر کے ساتھ نہیں ہو ہوتی ہے کے لیے ہیں جو

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک