گرین لینڈ میں یورپی افواج کی تعیناتی سے ٹرمپ منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، وائٹ ہاؤس
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ گرین لینڈ میں یورپی افواج کی تعیناتی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جس کے تحت وہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس قطبی جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یورپی ممالک کی فوجی موجودگی نہ تو صدر ٹرمپ کے فیصلے کو متاثر کرے گی اور نہ ہی گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کے منصوبے میں کوئی رکاوٹ بنے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک کا ایک مشترکہ فوجی مشن گرین لینڈ پہنچا ہے اور ڈنمارک نے بھی جزیرے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی تنقید کے جواب میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ خطے میں ڈنمارک کی موجودگی ناکافی ہے۔
فرانس، سویڈن، جرمنی، ناروے، ہالینڈ، فن لینڈ اور برطانیہ نے ڈنمارک کی فوجی مشقوں "آرکٹک ریزیلینس" کے تحت اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ تعیناتی علامتی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد مستقبل کی مشترکہ فوجی مشقوں کی تیاری ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو وہاں موجود رہنا چاہیے جہاں ان کے مفادات کو خطرہ ہو، تاہم انہوں نے علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔ دوسری جانب ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹی فریڈرکسن نے امریکہ کے ساتھ گرین لینڈ کے مستقبل پر بنیادی اختلافات کا اعتراف کیا ہے۔
ڈنمارک کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 2026 تک گرین لینڈ میں مستقل فوجی موجودگی کو مزید بڑھایا جائے گا۔ ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ انتہائی اہم ہے، خاص طور پر ان کے مجوزہ میزائل دفاعی نظام "گولڈن ڈوم" کے لیے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق روس اور چین کی آرکٹک میں بڑھتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول ضروری ہے، اور انہوں نے اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔