ایران کے حالیہ فسادات میں ٹرمپ ذاتی طور پر ملوث ہیں؛ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں اور مالی نقصان کے اصل ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے پیچھے براہ راست امریکی صدر ملوث ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ہلاکتوں، مالی نقصان اور عوام کے خلاف پروپیگنڈے کے اصل ذمہ دار خود امریکی صدر ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ حالیہ ایران مخالف بغاوت اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھا۔
انھوں نے الزام لگایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو اکسانے، ملک میں بدامنی پھیلانے اور سوشل میڈیا و بیانات کے ذریعے تشدد کو ہوا دینے میں براہِ راست کردار ادا کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ یہ احتجاجات کسی عوامی تحریک کے بجائے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی منصوبہ بند سازش تھے جن کا مقصد ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔
ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دشمن قوتیں اقتصادی مشکلات کو بہانہ بنا کر نظام کے خلاف نفرت پھیلانا چاہتی تھیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے احتجاج میں ڈھائی ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بیانات میں ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر گرفتار مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو امریکا حملہ کردے گا۔
جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مظاہرین کو سزائے موت دینے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ اس لیے اب وہ فوجی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خامنہ ای نے ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔