ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں اور مالی نقصان کے اصل ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے پیچھے براہ راست امریکی صدر ملوث ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ہلاکتوں، مالی نقصان اور عوام کے خلاف پروپیگنڈے کے اصل ذمہ دار خود امریکی صدر ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ حالیہ ایران مخالف بغاوت اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو اکسانے، ملک میں بدامنی پھیلانے اور سوشل میڈیا و بیانات کے ذریعے تشدد کو ہوا دینے میں براہِ راست کردار ادا کیا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ یہ احتجاجات کسی عوامی تحریک کے بجائے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی منصوبہ بند سازش تھے جن کا مقصد ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔

ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دشمن قوتیں اقتصادی مشکلات کو بہانہ بنا کر نظام کے خلاف نفرت پھیلانا چاہتی تھیں۔

بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے احتجاج میں ڈھائی ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بیانات میں ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر گرفتار مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو امریکا حملہ کردے گا۔

جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مظاہرین کو سزائے موت دینے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ اس لیے اب وہ فوجی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خامنہ ای نے ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی