خدا ایران اور آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ساتھ ہے
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے کبھی جارحانہ جنگ کا آغاز نہیں کیا، مگر جب دفاع کی بات آئی تو کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی۔ یہ توازن یعنی امن کی خواہش اور دفاع کی تیاری، اسلامی تعلیمات کا عین عکس ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چلنے والوں کے ساتھ خدا کی نصرت شامل حال ہوتی ہے۔ آج ایران کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈا دراصل اس خوف کا اظہار ہے کہ اگر ایران کا ماڈل کامیاب ہو گیا تو دنیا کے مظلوم عوام سوال اٹھائیں گے کہ پھر ہم کیوں غلامی میں ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس سے سامراجی نظام لرزتا ہے۔ تحریر: میثم عابدی
ایران کی اسلامی انقلاب کے بعد کی تاریخ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب قیادت ذاتی مفاد، وقتی دباؤ اور عالمی خوشنودی سے بے نیاز ہو جائے تو قومیں خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے رہبر بننے کے بعد ایران کو جس فکری سمت میں آگے بڑھایا، وہ صرف ریاستی پالیسی نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی اور نظریاتی بیانیہ ہے۔ یہی بیانیہ ایران کو باقی مسلم دنیا میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ ایران پر عائد معاشی پابندیاں بظاہر کمزور کرنے کے لیے لگائی گئیں، مگر عملی طور پر ان پابندیوں نے ایران کو خود کفالت، سائنسی ترقی اور مقامی وسائل پر انحصار کی طرف دھکیل دیا۔
آج ایران دفاع، میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون سسٹم، نیوکلیئر سائنس، طب اور انجینئرنگ کے شعبوں میں جس سطح پر کھڑا ہے، وہ عالمی سامراج کے لیے حیرت اور خوف کا باعث ہے۔ یہ سب کچھ کسی عالمی مالیاتی ادارے یا مغربی بلاک کی مدد کے بغیر ممکن ہوا، اور یہی خدا کی مدد کی سب سے بڑی عملی دلیل ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ طاقت کے توازن کو بندوقوں اور بموں سے نہیں بلکہ نظریات اور شعور سے ناپتے ہیں۔ ان کی نظر میں اصل جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ اذہان میں لڑی جاتی ہے۔ اسی لیے وہ ہمیشہ نوجوانوں، تعلیم، فکر اور ثقافت پر زور دیتے ہیں۔
دشمن جانتا ہے کہ اگر ایرانی نوجوان بیدار رہا تو ایران کو زیر کرنا ناممکن ہے، اسی لیے میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، مگر یہاں بھی قیادت ہوشیار اور قوم باخبر نظر آتی ہے۔ خطے میں ایران کا کردار محض جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں۔ یہ وہ واحد ملک ہے جس نے کھل کر اسرائیلی جارحیت کو للکارا، فلسطینی مزاحمت کو اسلحہ، اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سہارا دیا، اور کبھی بھی مظلوموں کو عالمی دباؤ کے خوف سے تنہا نہیں چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ ظالم ہمیشہ اس سے خوفزدہ ہوتا ہے جو حق کے ساتھ کھڑا ہو۔
یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا، مگر جب دفاع کی بات آئی تو کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی۔ یہ توازن یعنی امن کی خواہش اور دفاع کی تیاری، اسلامی تعلیمات کا عین عکس ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چلنے والوں کے ساتھ خدا کی نصرت شامل حال ہوتی ہے۔ آج ایران کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈا دراصل اس خوف کا اظہار ہے کہ اگر ایران کا ماڈل کامیاب ہوگیا تو دنیا کے مظلوم عوام سوال اٹھائیں گے کہ پھر ہم کیوں غلامی میں ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس سے سامراجی نظام لرزتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای اسی سوال کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ بیدار ذہن ہی انقلاب کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔
ایران اور اس کی قیادت کے خلاف جاری تمام تر دباؤ، دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ دشمن دیگر محاذوں کی طرح اس محاذ پر بھی ناکام ہوچکا ہے۔ ایران آج بہت مضبوط ہے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہے۔ تاریخ کا اصول ہے کہ جو قوم خدا پر بھروسہ کرتی ہے، حق پر قائم رہتی ہے اور ظلم کے سامنے ڈٹ جاتی ہے، اسے وقتی مشکلات تو آسکتی ہیں مگر شکست نصیب نہیں ہوتی۔ اسی تناظر میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ خدا ایران اور آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ساتھ ہے اور یہ ساتھ کسی نعرے کا نہیں بلکہ عمل، استقامت اور تاریخ کے فیصلے کا نام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای نہیں بلکہ ایران کو کے ساتھ دفاع کی اور یہ
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز