Islam Times:
2026-07-24@01:08:25 GMT

خدا ایران اور آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ساتھ ہے

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

خدا ایران اور آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ساتھ ہے

اسلام ٹائمز: یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے کبھی جارحانہ جنگ کا آغاز نہیں کیا، مگر جب دفاع کی بات آئی تو کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی۔ یہ توازن یعنی امن کی خواہش اور دفاع کی تیاری، اسلامی تعلیمات کا عین عکس ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چلنے والوں کے ساتھ خدا کی نصرت شامل حال ہوتی ہے۔ آج ایران کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈا دراصل اس خوف کا اظہار ہے کہ اگر ایران کا ماڈل کامیاب ہو گیا تو دنیا کے مظلوم عوام سوال اٹھائیں گے کہ پھر ہم کیوں غلامی میں ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس سے سامراجی نظام لرزتا ہے۔ تحریر: میثم عابدی

ایران کی اسلامی انقلاب کے بعد کی تاریخ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب قیادت ذاتی مفاد، وقتی دباؤ اور عالمی خوشنودی سے بے نیاز ہو جائے تو قومیں خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے رہبر بننے کے بعد ایران کو جس فکری سمت میں آگے بڑھایا، وہ صرف ریاستی پالیسی نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی اور نظریاتی بیانیہ ہے۔ یہی بیانیہ ایران کو باقی مسلم دنیا میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ ایران پر عائد معاشی پابندیاں بظاہر کمزور کرنے کے لیے لگائی گئیں، مگر عملی طور پر ان پابندیوں نے ایران کو خود کفالت، سائنسی ترقی اور مقامی وسائل پر انحصار کی طرف دھکیل دیا۔ 

آج ایران دفاع، میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون سسٹم، نیوکلیئر سائنس، طب اور انجینئرنگ کے شعبوں میں جس سطح پر کھڑا ہے، وہ عالمی سامراج کے لیے حیرت اور خوف کا باعث ہے۔ یہ سب کچھ کسی عالمی مالیاتی ادارے یا مغربی بلاک کی مدد کے بغیر ممکن ہوا، اور یہی خدا کی مدد کی سب سے بڑی عملی دلیل ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ طاقت کے توازن کو بندوقوں اور بموں سے نہیں بلکہ نظریات اور شعور سے ناپتے ہیں۔ ان کی نظر میں اصل جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ اذہان میں لڑی جاتی ہے۔ اسی لیے وہ ہمیشہ نوجوانوں، تعلیم، فکر اور ثقافت پر زور دیتے ہیں۔

دشمن جانتا ہے کہ اگر ایرانی نوجوان بیدار رہا تو ایران کو زیر کرنا ناممکن ہے، اسی لیے میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، مگر یہاں بھی قیادت ہوشیار اور قوم باخبر نظر آتی ہے۔ خطے میں ایران کا کردار محض جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں۔ یہ وہ واحد ملک ہے جس نے کھل کر اسرائیلی جارحیت کو للکارا، فلسطینی مزاحمت کو اسلحہ، اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سہارا دیا، اور کبھی بھی مظلوموں کو عالمی دباؤ کے خوف سے تنہا نہیں چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ ظالم ہمیشہ اس سے خوفزدہ ہوتا ہے جو حق کے ساتھ کھڑا ہو۔

یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا، مگر جب دفاع کی بات آئی تو کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی۔ یہ توازن یعنی امن کی خواہش اور دفاع کی تیاری، اسلامی تعلیمات کا عین عکس ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چلنے والوں کے ساتھ خدا کی نصرت شامل حال ہوتی ہے۔ آج ایران کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈا دراصل اس خوف کا اظہار ہے کہ اگر ایران کا ماڈل کامیاب ہوگیا تو دنیا کے مظلوم عوام سوال اٹھائیں گے کہ پھر ہم کیوں غلامی میں ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس سے سامراجی نظام لرزتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای اسی سوال کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ بیدار ذہن ہی انقلاب کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔

ایران اور اس کی قیادت کے خلاف جاری تمام تر دباؤ، دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ دشمن دیگر محاذوں کی طرح اس محاذ پر بھی ناکام ہوچکا ہے۔ ایران آج بہت مضبوط ہے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہے۔ تاریخ کا اصول ہے کہ جو قوم خدا پر بھروسہ کرتی ہے، حق پر قائم رہتی ہے اور ظلم کے سامنے ڈٹ جاتی ہے، اسے وقتی مشکلات تو آسکتی ہیں مگر شکست نصیب نہیں ہوتی۔ اسی تناظر میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ خدا ایران اور آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ساتھ ہے اور یہ ساتھ کسی نعرے کا نہیں بلکہ عمل، استقامت اور تاریخ کے فیصلے کا نام ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای نہیں بلکہ ایران کو کے ساتھ دفاع کی اور یہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف