سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات: امریکی جریدے نے پاکستانی مؤقف کی حمایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر پاکستان کا اصولی اور قانونی مؤقف ایک بار پھر عالمی سطح پر درست ثابت ہو گیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق معروف امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے کھل کر پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے بھارت کی آبی پالیسیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتا اور اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر درست اور عالمی قوانین کے مطابق ہے۔
جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے دعوے اور اس پر عمل درآمد کی کوششیں جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔ پاکستان خطے میں ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ پانی کو امن اور تعاون کا ذریعہ سمجھتا آیا ہے، جب کہ بھارت پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتا ہے۔
امریکی جریدے نے بھارت کے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دُلہستی اسٹیج۔II ہائیڈروپاور منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے منصوبے نہ صرف معاہدے کی روح کے منافی ہیں بل کہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے آبی حقوق کو بھی متاثر کرتے ہیں۔یہ اقدام اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا، جسے ماہرین عالمی قوانین اور معاہدے کی روح کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے مہیا کرنا بھارت پر قانونی طور پر لازم ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ معاہدے کے مطابق مشرقی دریا بھارت کے حصے میں ہیں، جب کہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مختص ہیں۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق معاہدے میں کہیں بھی یک طرفہ معطلی یا خاتمے کی کوئی شق موجود نہیں۔ اس کے باوجود بھارت نے حالیہ برسوں میں آبی ڈیٹا کی فراہمی روک دی، تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو کمزور کیا اور سندھ طاس بیسن میں متنازع ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے، جن میں رٹلے، پکال دل، برسر، ساول کوٹ، کِرو، کواڑ اور کِرتھائی منصوبے شامل ہیں۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی کوششیں عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت ناقابل قبول ہیں، جب کہ پاکستان کا مؤقف آئینی، قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر مضبوط ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے معاہدے کی کے مطابق
پڑھیں:
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے، چین نے مکئی کی درآمد کے لئے پاکستانی تاجروں کی رجسٹریشن بھی شروع کردی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق رائس ایکسپورٹرز ایسوسی کے وفد کا دورہ چین کامیابی سے جاری ہے ، جس دوران چاول کی برآمد کیلئے چین کے دو صوبوں کے ساتھ وفد نے ایم او یو سائن کر لیے ہیں، 30 سے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے چاول کی فروخت کے معاہدے متوقع ہیں ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید جیلانی کا کہناتھا کہ چین کو پاکستان سے مکئی کی برآمد بھی جلد شروع ہو جائے گی،چین کو باسمتی اور نان باسمتی دونوں اقسام کے چاول برآمد کریں گے،رواں مالی سال چاول کی برآمدات دوبارہ 3ارب ڈالر کی سطح عبور کر جائیں گی، چین کا دورہ جاری ہے مزید آرڈرز ملنے کا امکان ہے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :