سری لنکا کے نوجوان بلے باز نے انڈر 19 ورلڈ کپ کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سری لنکا کے نوجوان بلے باز ورن چامودیتھا نے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹورنامنٹ کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
جاپان کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ورن چامودیتھا نے غیر معمولی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 143 گیندوں پر 192 رنز اسکور کیے جس میں 26 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ یہ انڈر 19 ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔
اس سے قبل یہ ریکارڈ سری لنکا ہی کے ہاسیتھ بویاگودا کے پاس تھا جنہوں نے 2018 کے ایڈیشن میں 191 رنز بنائے تھے، تاہم ورن چامودیتھا نے اس ریکارڈ کو ایک رن سے پیچھے چھوڑ کر نئی تاریخ رقم کر دی۔
View this post on Instagramان کی اس یادگار اننگز کے دوران اوپننگ ساتھی دیمانٹھا مہاویتھانا نے بھی شاندار بیٹنگ کی اور دونوں بلے بازوں نے پہلی وکٹ کے لیے 328 رنز کی ریکارڈ شراکت قائم کی جو انڈر 19 ورلڈ کپ میں کسی بھی وکٹ کے لیے سب سے بڑی پارٹنرشپ ہے۔
ورن چامودیتھا کی جارحانہ اور اعتماد سے بھرپور بیٹنگ کی بدولت سری لنکا کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 388 رنز کا بڑا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجا دیا۔
نوجوان بلے باز کی اس تاریخی کارکردگی کو کرکٹ شائقین اور ماہرین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے جبکہ یہ اننگز ورن چامودیتھا کے روشن مستقبل کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔