ٹرمپ نے کن 2 مسلم سربراہان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ٹرمپ نے کن 2 مسلم سربراہان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے امورِ مملکت چلانے کے لیے عبوری انتظام اور نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کا اعلان کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بورڈ کو خود امریکی صدر سپروائز کریں گے اور اس کے ارکان میں زیادہ امریکی ہی شامل ہیں۔ البتہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کے لیے ترک صدر طیب اردوان کو بھی باضابطہ دعوت دی ہے۔
ترکیہ کے صدارتی دفتر نے بتایا کہ صدر اردوان کو امریکی ہم منصب کا خط بھی موصول ہوا ہے جس میں انھیں اس بورڈ کا بانی رکن بنانے کی پیشکش کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے اس خط میں غزہ جنگ بندی اور اس کے بعد امن، عبوری حکمرانی اور تعمیر نو کے عمل میں ترکیہ کے کردار کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ ترک صدر نے تاحال امریکی ہم منصب کی اس پیشکش پر کوئی جواب نہیں دیا البتہ اس پر اپنے رفقا سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔
اگرچہ ترک صدر کے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تاہم وہ اسرائیل کے سخت ترین ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ ترک صدر متعدد بار اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو انسانی جرائم قرار دے چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل پہلے بھی غزہ کے معاملات میں ترکی کے کسی فعال کردار کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
ترک صدر کے علاوہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ مصری وزیر خارجہ نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صدر ٹرمپ کی اس دعوت کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور تمام پہلوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
وائٹ ہا ئو س کے مطابق بورڈ آف پیس کا قیام غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی نازک جنگ بندی کے بعد کیا جا رہا ہے۔ اس بورڈ کا مقصد غزہ کی عارضی حکمرانی کی نگرانی، سیکیورٹی اور امن و امان کی بحالی، انسانی امداد کی منصفانہ تقسیم، تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی سمیت مستقبل کے سیاسی انتظام کے لیے فریم ورک تیار کرنا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے، بنگلادیش اپنے موقف پر ڈٹ گیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے، بنگلادیش اپنے موقف پر ڈٹ گیا گورننگ کونسل اجلاس :محسن نقوی نے پی ایس ایل کھلاڑیوں کے معاوضے بڑھانے کا مشورہ دیدیا پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان غزہ بھر میں اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی کے باوجود درجنوں فلسطینی شہید گزشتہ سال مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد بیرون ملک بھجوائے گئے جس طرح سندھ نے کارکردگی دکھائی دیگر صوبے بھی دکھائیں، شرجیل میمنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غزہ بورڈ آف پیس
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔