غزہ بھر میں اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی کے باوجود درجنوں فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
غزہ بھر میں اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی کے باوجود درجنوں فلسطینی شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
غزہ(آئی پی ایس )غزہ بھر میں صیہونی افواج کے حملے جاری ہیں، اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود درجنوں فلسطینی شہید کر دیئے۔عرب میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک 464 فلسطینی شہادتیں رپورٹ ہوئی ہیں، اکتوبر 2023 سے غزہ میں شہدا کی تعداد 71 ہزار 353 ہوگئی۔شدید سردی کے باعث ایک اور نومولود جان نے دم توڑ دیا، رواں موسم میں 7 بچوں سمیت 24 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک لاکھ 71 ہزار سے 548 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کیلئے فلسطینی کمیٹی نے قاہرہ میں کام شروع کر دیا، امریکی صدر کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں ٹونی بلیئر سمیت اہم شخصیات شامل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اردوان اور السیسی کو بورڈ میں شمولیت کی دعوت دے دی، جیرڈ کشنر، مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکوف بورڈ آف پیس کا حصہ ہونگے۔اسرائیل کی جانب سے امداد پر پابندیوں سے حالات مزید بدتر ہوگئے، غزہ میں انسانی بحران شدید ہو گیا، تنظیموں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگزشتہ سال مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد بیرون ملک بھجوائے گئے گزشتہ سال مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد بیرون ملک بھجوائے گئے جس طرح سندھ نے کارکردگی دکھائی دیگر صوبے بھی دکھائیں، شرجیل میمن افغان طالبان رجیم کو سفارتی محاذ پر مسلسل ناکامیوں کا سامنا ایس ایم تنویر کا قومی معیشت کی تنزلی سے متعلق موقف حقائق کی عکاسی ہے، زاہد اقبال چوھدری مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں فسادات کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دے دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنگ بندی کے
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔