چیئرمین سینیٹ و دیگر اہم شخصیات کی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد() ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی بھابھی اور ان کے بڑے بھائی امان اللہ خان ناصر کی اہلیہ کے انتقال پر ملک کی اعلی سیاسی قیادت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔

چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری سمیت دیگر سینیٹرز، ارکانِ پارلیمنٹ، معروف سیاسی و سماجی رہنماں، وکلا، ڈاکٹرز، قبائلی عمائدین، صحافیوں، بیوروکریٹس اور اساتذہ کرام نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

تعزیتی ملاقات کے دوران مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور مرحومہ کی مغفرت و درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ شرکا نے مرحومہ کے لیے جنت الفردوس میں اعلی مقام کی دعا کی اور غمزدہ خاندان کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا۔

اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے تعزیت کے لیے آنے والی تمام معزز شخصیات، پارلیمنٹیرینز اور دوست احباب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی اور یکجہتی ان کے لیے باعثِ حوصلہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر عطا کرے۔

واضح رہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے بڑے بھائی امان اللہ خان ناصر کی اہلیہ کا انتقال گزشتہ دنوں کوئٹہ میں ہوا تھا۔ مرحومہ طویل عرصے سے شدید علیل تھیں اور زیرِ علاج رہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ تعزیت کے لیے کل بروز اتوار ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر اپنی رہائش گاہ پر دوپہر ایک بجے سے شام پانچ بجے تک موجود ہوں گے، جہاں تعزیت کے لیے آنے والے افراد ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ نے کن 2 مسلم سربراہان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی؟ ٹرمپ نے کن 2 مسلم سربراہان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی؟ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے، بنگلادیش اپنے موقف پر ڈٹ گیا گورننگ کونسل اجلاس :محسن نقوی نے پی ایس ایل کھلاڑیوں کے معاوضے بڑھانے کا مشورہ دیدیا پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان غزہ بھر میں اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی کے باوجود درجنوں فلسطینی شہید گزشتہ سال مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد بیرون ملک بھجوائے گئے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری