جس طرح سندھ نے کارکردگی دکھائی، دوسرے صوبے بھی دکھائیں: شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اگر دیگر صوبے بھی سندھ کی طرز پر کارکردگی دکھائیں تو ملک بہت تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے سندھ حکومت کی فلاحی اور ترقیاتی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت سائبر نائف ٹیکنالوجی کے ذریعے کینسر کے مریضوں کو مکمل طور پر مفت علاج فراہم کر رہی ہے اور یہ سہولت دنیا میں اپنی نوعیت کی واحد مثال ہے، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے مطابق سائبر نائف کے ذریعے علاج صرف 11 ممالک میں دستیاب ہے، جہاں اس پر لاکھوں ڈالر خرچ آتا ہے، جبکہ سندھ حکومت یہ علاج عوام کو بلا معاوضہ فراہم کر رہی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں گزشتہ برس 29 لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا، جبکہ این آئی سی وی ڈی میں علاج کرانے والے مریضوں میں سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں کا تناسب 56 فیصد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ کے طبی ادارے پورے ملک کے عوام کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ملکی سیاست کا معیار اب عملی کام کے بجائے محض ایک دوسرے پر تنقید تک محدود ہو چکا ہے۔
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس آفت سے سندھ میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، تاہم حکومت نے بحالی کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا اور 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس کے تحت کروڑوں افراد کو مفت مکانات فراہم کیے جا رہے ہیں، جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔
سینئر وزیر نے ماحولیاتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختصر مدت میں مینگروز کے درخت لگانے کے منصوبے پر غیر معمولی پیش رفت ہوئی اور اس حوالے سے دو مرتبہ گنیز ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے تھر کے انفرااسٹرکچر پر اب تک ایک ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جبکہ تھر کے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کو فراہم کی جا رہی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پرائیویٹ بزنس کمیونٹی سندھ حکومت کے ساتھ مل کر مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ شاہراہ بھٹو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایک جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ ہے، پاکستان میں سرمایہ کار آ رہے ہیں اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم منفی سوچ کے ساتھ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2024 میں وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ وژن کے ذریعے صوبے کے ترقیاتی روڈ میپ سے آگاہ کیا تھا، اور حکومت چاہتی ہے کہ دنیا بھر کو معلوم ہو کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کے کتنے وسیع مواقع موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سندھ حکومت کہ سندھ نے کہا رہی ہے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔