اسلام ٹائمز۔ ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امام علی (ع) نہ صرف ایک عظیم مذہبی رہنما تھے بلکہ ایک ایسے مفکر اور سماجی مصلح بھی تھے جن کی تعلیمات عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی

نئی دہلی میں "امام علی (ع) کی تعلیمات اور جدید معاشرہ" کے عنوان سے ایک اہم پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے عبدالرحمن آڈیٹوریم کے اس پروگرام میں بڑی تعداد میں دانشوروں، ماہرین تعلیم، طلباء، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ آڈیٹوریم گنجائش سے زیادہ بھرا ہوا تھا۔ "امام علی علیہ السلام کی تعلیمات اور جدید معاشرہ" کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میں اسلامی سکالر مولانا سید کلب رشید رضوی، مولانا ڈاکٹر حسن کمیلی اور ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے کلیدی مقررین کی حیثیت سے اپنے خیالات پیش کئے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں حضرت علی (ع) کی سیرت، کردار اور تعلیمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امام علی (ع) نہ صرف ایک برادری بلکہ پوری انسانیت کے لئے انصاف، مساوات اور اخلاقی جرأت کے داعی تھے۔

مقررین نے کہا کہ آج کا معاشرہ جو بدعنوانی، ناانصافی، امتیازی سلوک اور اخلاقی انحطاط جیسے چیلنجوں سے دوچار ہے، امام علی (ع) کی تعلیمات ایک طاقتور رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اپنی تقاریر میں مقررین نے صرف گورننس، کمزوروں کے حقوق، دیانتداری اور انسانی وقار کے تحفظ جیسے مسائل پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ امام علی (ع) کی زندگی سے متاثر ہو کر معاشرے میں مثبت تبدیلی کے ایجنٹ بنیں۔ پروگرام کی نظامت پی اے محمدی نے کی، جنہوں نے پورے پروگرام کو حسن توازن کے ساتھ چلایا۔ ان کی پریزنٹیشن نے پروگرام کی سنجیدگی اور تاثیر کو مزید تقویت دی۔

اس دوران مقررین نے کہا کہ دین کا اصل مقصد صرف عبادات تک محدود نہیں ہے، بلکہ معاشرے میں انصاف، ہمدردی اور باہمی بھائی چارے کو مضبوط کرنا ہے۔ امام علی (ع) کی تعلیمات آج کے جدید معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانیت کے تحفظ کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہیں۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ یہ پروگرام نہ صرف ایک مذہبی تقریب تھا بلکہ معاشرے کو سوچنے، سمجھنے اور صحیح سمت میں آگے بڑھنے کی تحریک دینے کی ایک اہم کوشش بھی تھی۔ ایسے واقعات آج کے دور میں نہ صرف ضروری ہیں، بلکہ معاشرے کو اخلاقی اور انسانی اقدار سے جوڑنے کا ایک طاقتور ذریعہ بھی ہیں۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید کلب رشید رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امام علی علیہ السلام کی زندگی عدل و انصاف، دیانتداری اور اخلاقی جرات کا عملی نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی (ع) نے اقتدار کو خدمتِ خلق کا ذریعہ سمجھا اور ہمیشہ کمزوروں، یتیموں اور محروموں کے حقوق کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج کے حکمران اور ذمہ دار افراد امام علی (ع) کے طرزِ حکمرانی سے سبق حاصل کریں تو معاشرے میں ناانصافی اور بدعنوانی جیسے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر حسن کمیلی نے امام علی (ع) کی تعلیمات کو جدید سماجی اور فکری چیلنجوں کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں مادیت پرستی، اخلاقی زوال اور انسانی رشتوں کی کمزوری جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں امام علی (ع) کا پیغامِ انسانیت، ہمدردی اور مساوات ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام علی (ع) نے ہمیشہ عقل، علم اور کردار کی بالادستی پر زور دیا، جو آج کے نوجوانوں کے لئے خاص طور پر اہم پیغام ہے۔ ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امام علی (ع) نہ صرف ایک عظیم مذہبی رہنما تھے بلکہ ایک ایسے مفکر اور سماجی مصلح بھی تھے جن کی تعلیمات عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام علی (ع) کی فکر فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر انسانیت کے مشترکہ اقدار پر مبنی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیمات آج کے کثیر الثقافتی اور متنوع معاشروں میں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دین کا اصل مقصد محض رسومات اور عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا عادلانہ اور اخلاقی معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں انصاف، رواداری اور بھائی چارہ غالب ہو۔ انہوں نے کہا کہ امام علی (ع) کی تعلیمات جدید معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ پروگرام کی نظامت پی اے محمدی نے انجام دی، جنہوں نے نہایت خوش اسلوبی، سنجیدگی اور فکری توازن کے ساتھ تقریب کو آگے بڑھایا۔ ان کی مؤثر نظامت نے مختلف خطابات کو ایک مربوط فکری سلسلے میں پرو دیا اور پروگرام کے وقار میں اضافہ کیا۔

تقریب کے اختتام پر سوال و جواب اور مکالمے کا ایک تفصیلی سلسلہ بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے امام علی (ع) کی تعلیمات کے عملی اطلاق، نوجوانوں کے کردار اور موجودہ سماجی مسائل پر سوالات اٹھائے۔ مقررین نے ان سوالات کے مدلل اور جامع جوابات دیتے ہوئے حاضرین کو امام علی کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی ترغیب دی۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ یہ پروگرام محض ایک مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ ایک فکری اور سماجی مکالمہ تھا، جس کا مقصد معاشرے کو سوچنے، سمجھنے اور اخلاقی بنیادوں پر آگے بڑھنے کی ترغیب دینا تھا۔ شرکاء کا متفقہ خیال تھا کہ اس نوعیت کے پروگرام آج کے دور میں نہایت ضروری ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف مذہبی شعور کو فروغ دیتے ہیں بلکہ معاشرے کو انسانی اقدار، عدل و انصاف اور باہمی احترام سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ امام علی نے اپنے خطاب بلکہ معاشرے کی تعلیمات اور اخلاقی اور انسانی نہ صرف ایک معاشرے کو انصاف اور سکتی ہیں بلکہ ایک

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا