وفاقی وزارت کا پاکستان اسٹیل میں چوریوں کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کو خط
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
کراچی:
وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے پاکستان اسٹیل میں چوریوں کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کو خط لکھ دیا۔
وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے ایف آئی اے کو خط میں پاکستان اسٹیل میں قیمتی اثاثوں، مشینری، کیبلزاوراسکریپ چوری کی مکمل تحقیقات کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر 2025 میں 36 ٹن اسکریپ چوری میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے مسروقہ سامان برآمد کیا تھا، 24 دسمبر 2026 کو اسکریپ چوری کیس میں ملوث ملازمین اور سرپرست افسران کی نشان دہی کی گئی تھی اور دو ملازمین پر اسکریپ چوری میں سہولت کاری کا الزام تھا۔
مزید بتایا گیا کہ گمراہ کن بیان کے باعث ملزمان کی ضمانت منظور ہونے اور گیٹ نمبر 5 سے بغیر پاس چوری شدہ سامان کی نقل و حمل کا بھی انکشاف ہوا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اندرونی انکوائری میں پاکستان اسٹیل اور ڈی ایس جی سیکیورٹی کی کوتاہی سامنے آئی تھی اس لیے ایف آئی اے سے افسران، سیکیورٹی گارڈز، ڈی ایس جی اور اسکریپ ڈیلرز کے خلاف جامع تحقیقات کی سفارش کی گئی۔
وزارت صنعت و پیداوار نے پاکستان اسٹیل چوری کیس کے ذمہ داروں کے تعین اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹیل اسکریپ چوری ایف آئی اے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔