پاکستان کو ٹیکس چوری، اسمگلنگ کے باعث سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن پاکستان کے ٹیکس خسارے کے خاتمے کیلئے ناگزیر ہے، جبکہ حکومت غیر قانونی تجارت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرکے ٹیکس وصولی کے بلند اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ معروف ریسرچ انسٹیٹیوٹ اپسوس نے انکشاف کیا ہے کہ ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے باعث مختلف اہم شعبوں میں سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے اور غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن پاکستان کے ٹیکس خسارے کے خاتمے کیلئے ناگزیر ہے، جبکہ حکومت غیر قانونی تجارت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرکے ٹیکس وصولی کے بلند اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے ہفتہ کو یہاں سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ اعدادوشمار کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو موجودہ مالی سال کے پہلی ششماہی میں اپنے ہدف کے مقابلے میں 330 ارب روپے کی نمایاں کمی کا سامنا رہا ہے۔ یہ فرق معیشت میں بڑے پیمانے پر ریونیو کے نقصانات کی عکاسی کرتا ہے، معروف تحقیقاتی ادارے اپسوس کی پانچ اہم شعبوں میں ٹیکس چوری سے متعلق تحقیق کے مطابق ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے باعث مختلف اہم شعبوں میں سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔
قانون کے سخت نفاذ اور معیشت کو دستاویزی بنانے پر توجہ دی جائے تو معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے درکار مالی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے، جس کا باقاعدہ ٹیکس دہندگان اور دستاویزی کاروباری طبقے پر مزید بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ پاکستان میں غیر دستاویزی معیشت معاشی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سالانہ تقریباً 500 ارب روپے کے ٹیکس کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ غیر قانونی تمباکو کی تجارت میں اسمگل شدہ اور بغیر ٹیکس ادا کی گئی سگریٹس شامل کی وجہ سے قومی خزانے کو مزید 310 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ ٹائرز، لبریکنٹس، فارماسیوٹیکلز اور چائے سمیت دیگر بڑی صنعتوں میں سالانہ مجموعی طور پر 200 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کار اسامہ صدیقی نے ٹیکس وصولی کے اہداف مکمل نہ ہونے اور ٹیکس چوری کے معاشی نقصانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ شعبے بڑی حد تک دستاویزی نظام سے باہر کام کر رہے ہیں۔ اس لیے اس بھاری ٹیکس چوری کا مالی دباؤ غیر منصفانہ طور پر محدود تعداد میں باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر منتقل ہو جاتا ہے اور نتیجے میں ایک ایسا منفی چکر جنم لیتا ہے، جس میں زیادہ ٹیکس چوری مزید فروغ ملتا ہے اور تجارتی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اسامہ صدیقی کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کے بجائے ٹارگٹ کرکے ٹیکس چوری کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اہداف کے حصول کیلئے حکومت کو ان راستوں کو بند کرنا ہوگا جو ریونیو لیکیج کا سبب بنتے ہیں اور ٹیکس چوری میں ملوث عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ اقدامات کو تیز کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر قانونی تجارت کے خلاف ارب روپے سے زائد میں سالانہ ٹیکس چوری کا نقصان کے ٹیکس رہا ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔