آئين ایک وعدہ ہے، اسے توڑا گیا تو رشتے خراب ہوں گے، محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
محمود خان اچکزئی : فائل فوٹو
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ آئين ایک وعدہ ہے، اسے توڑا گیا تو رشتے خراب ہوں گے۔
جامشورو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں پر پابندی غیرانسانی ہے، حکمرانی میں حصہ اور تمام زبانوں کا احترام چاہیے۔ ہمارےہاں روایت ہے، آنے والےحکمران کو ہار اور جانے والے کو گالیاں دی جاتی ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چھوٹے صوبوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، وسائل پر پہلا حق مقامی بچوں کا ہے، انسان روٹی سے پہلے حقِ حکمرانی مانگتا ہے، ہر ادارے میں آبادی کے تناسب سےحصہ دینا ہوگا، ہمیں حقِ حکمرانی میں حصہ اور تمام زبانوں کا احترام چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ خارجہ پالیسی پارلیمنٹ بنائے، خطے کی صورتحال پر گول میز کانفرنس بلائی جائے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ بلاول نے3 گھنٹے تقریر کی لیکن سندھ کے شہروں کا حال دیہات سے بھی برا ہے، چھوٹےصوبوں کو این ایف سی ایوارڈ میں ان کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا، زندگی ہمیں یہاں گزارنی ہے تو فیصلے بھی ہمیں ہی کرنے چاہئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔