طالبان رجیم کی حکمرانی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، بین الاقوامی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
بین الاقوامی جریدے نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم کی حکمرانی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور طالبان کی سفارتی بھرپور حمایت کے باوجود پاکستان کی سلامتی کی صورت حال بگڑتی گئی۔
بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق طالبان رجیم کی حکمرانی کے مضر اثرات میں پاکستان سرِفہرست ملک ہے،2021 میں طالبان کی واپسی کو پاکستان نے خطے میں استحکام کا موقع سمجھا مگرنتائج برعکس نکلے ہیں-
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے طالبان کی سفارتی اورانسانی سطح پر بھرپورحمایت کی، اس کے باوجود پاکستان کی سلامتی کی صورت حال بگڑتی گئی اور افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہرکا سامنا کرنا پڑا-
بین الاقوامی جریدے نے بتایا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان کے دہشت گرد بدستور سرگرم ہیں، افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اورافغانستان سے ہونے والے سرحد پار حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد سب سے زیادہ ملوث ہیں-
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے، بھارت نے کابل میں دوبارہ سفارتی موجودگی قائم کرکے طالبان قیادت سے روابط کو تیزی سے وسعت دی ہے-
افغانستان کے پاکستان مخالف اقدامات کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان اور بھارت کے بڑھتے روابط پاکستان کے لیے خطرے کے طور پر ابھر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 80 ہزار زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے-
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں تصادم کے بجائے مکالمے، ثالثی اور علاقائی سفارت کاری کو ترجیح دی، پاکستان کی جانب سے دو طرفہ بات چیت، مذہبی ثالثی اور علاقائی سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی گئی-
مزید بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی سرحدی علاقوں سے منتقلی پر اتفاق ہوا، مگر وعدوں کے باوجود طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی-
اس حوالے سے بتایا گیا کہ طالبان کی جانب سے وعدوں پرعمل نہ ہونے کے باعث پاکستان نے مکالمے کے ساتھ محدود عسکری کارروائی کی حکمتِ عملی اپنائی، اس سلسلے میں پاکستان کو ستمبر اور اکتوبر 2025 میں افغانستان میں سرگرم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا-
دی ڈپلومیٹ نے بتایا کہ پاکستان نے اس کے باوجود سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے، ترکی اور قطر پاکستان اور طالبان کے درمیان ثالثی میں شامل رہے-
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رپورٹ میں بتایا بین الاقوامی کہ پاکستان پاکستان نے بتایا گیا کے باوجود طالبان کی گیا ہے کہ ٹی ٹی پی
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔