ایران میں پرامن احتجاج کو صیہونی مسلح دہشت گردی کے ذریعے تشدد میں بدلا گیا،ایرانی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ایران میں پرامن احتجاج کو صیہونی مسلح دہشت گردی کے ذریعے تشدد میں بدلا گیا،ایرانی وزارت خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
تہران:(آئی پی ایس) ایران کی وزارت خارجہ نے جی7 ممالک کے مداخلت آمیز بیان کی مذمت کی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے جی7 ممالک کے بیان کی مذمت کی ہے جس میں ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کی گئی ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جی7 ممالک، امریکہ اور صیہونی ریاست کے زیر اثر، ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ 8-10 جنوری 2026 کے دوران ایرانی عوام کی مسالہ آمیز گھیراؤ کو صیہونی ریاست کے ذریعے مسلح تروریت کے ذریعے تشدد میں تبدیل کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں احتجاجی اور قانون نافذ کرنے والے اور سیکیورٹی فورسز کے افراد پر حملہ، زخمی یا شہید ہوئے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور صیہونی ریاست کے سابق اور موجودہ عہدیداروں کے بیانات اور اسرائیلی ریاست کے ذریعے مسلح تروریت کو فروغ دینے کے لیے جمع کیے گئے اسناد، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست نے مسلح تروریت کو مسلح کرنے اور امریکہ کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایران کی اسلامی جمہوریہ نے اپنے آئین کے مطابق عوام کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے اپنی قانونی، اخلاقی، اور انسانی عزم پر زور دیا ہے، جس میں مسالہ آمیز احتجاج کا حق بھی شامل ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جی7 ممالک، جو اپنے ممالک اور مغربی ایشیا کے علاقے میں انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں، صیہونی ریاست کی حمایت یا اس کے جرائم پر خاموشی کے ذریعے، اسرائیلی ریاست کے ساتھ مباشرت شراکت دار ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جی7 ممالک کے بیانات فریب کارانہ اور مداخلت آمیز ہیں اور انہیں ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت بند کرنی چاہیے، ایرانی عوام کے خلاف ظالمانہ اور غیر قانونی تحریمیں ختم کرنی چاہیے، اور انسانی حقوق کے بلند مقاصد کا ناجائز استعمال بند کرنا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپمز میں چوہدری محمد عثمان کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی تعیناتی، پوٹھوہار گروپ کی جانب سے پروقار تقریب اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو 2 فروری تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا سرگودھا میں شدید دھند کے باعث ٹرک نہر میں گر گیا، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے بیٹے کی گاڑی کو حادثہ خاران، دہشتگردوں کا تھانے اور بینکوں پر حملہ، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 12دہشتگرد ہلاک بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، روسی صدر ولادیمیر پوتن وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کی ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ صیہونی ریاست جی7 ممالک کے ذریعے ریاست کے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔