Jasarat News:
2026-06-02@23:16:06 GMT

جاسوسی کاالزام‘ روس نے برطانوی سفارتکار کو ملک بدر کردیا

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ۔ ماسکو نے جاسوسی کے الزام میں برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا ۔ برطانیہ نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے سفارتی مشن کے کام کے بنیادی اصول متاثر ہو رہے ہیں اور لندن اپنے ردعمل پر غور کر رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق برطانوی سفارت کار گیرتھ سیموئیل ڈیوس ماسکو میں برطانوی سفارت خانے میں سیکنڈ سیکرٹری کے طور پر تعینات تھے اور برطانوی خفیہ ادارے کے لیے کام کر رہے تھے، انہیں 2ہفتوں کے اندر روس چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔اس معاملے پر روسی وزارت خارجہ نے روس میں تعینات برطانوی ناظم الامور ڈینیئے دھولاکیا کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ، جس میں کہا گیا کہ ماسکو روس میں غیر علانیہ برطانوی خفیہ اہلکاروں کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر لندن نے صورت حال کو مزید بڑھایا تو روس اس کا سخت جواب دے گا۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کے باہر مظاہرین نے برطانوی سفارتی گاڑی کے سامنے برطانیہ مخالف نعرے بھی لگائے۔ دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے روسی الزامات کو بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ روس میں برطانوی سفارت کاروں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: برطانوی سفارت

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی