جاسوسی کاالزام‘ روس نے برطانوی سفارتکار کو ملک بدر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ۔ ماسکو نے جاسوسی کے الزام میں برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا ۔ برطانیہ نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے سفارتی مشن کے کام کے بنیادی اصول متاثر ہو رہے ہیں اور لندن اپنے ردعمل پر غور کر رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق برطانوی سفارت کار گیرتھ سیموئیل ڈیوس ماسکو میں برطانوی سفارت خانے میں سیکنڈ سیکرٹری کے طور پر تعینات تھے اور برطانوی خفیہ ادارے کے لیے کام کر رہے تھے، انہیں 2ہفتوں کے اندر روس چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔اس معاملے پر روسی وزارت خارجہ نے روس میں تعینات برطانوی ناظم الامور ڈینیئے دھولاکیا کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ، جس میں کہا گیا کہ ماسکو روس میں غیر علانیہ برطانوی خفیہ اہلکاروں کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر لندن نے صورت حال کو مزید بڑھایا تو روس اس کا سخت جواب دے گا۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کے باہر مظاہرین نے برطانوی سفارتی گاڑی کے سامنے برطانیہ مخالف نعرے بھی لگائے۔ دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے روسی الزامات کو بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ روس میں برطانوی سفارت کاروں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: برطانوی سفارت
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔