برطانوی بحریہ کا بغیر عملے کے جدید ہیلی کاپٹر “پروٹیئس” کامیاب آزمائشی پرواز میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن:برطانیہ کی رائل نیوی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پہلے فل سائز خودکار (بغیر عملے کے) ہیلی کاپٹر نے اپنی ابتدائی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ اس جدید ہیلی کاپٹر کو مستقبل کے خطرناک عسکری مشنز، خصوصاً آبدوزوں کی نگرانی اور سمندری تحفظ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
رائل نیوی کے مطابق اس جدید خودکار ہیلی کاپٹر کو “پروٹیئس” کا نام دیا گیا ہے، جس نے ایک مختصر مگر اہم ٹیسٹ مشن کامیابی سے انجام دیا،یہ ہیلی کاپٹر جدید سینسرز، طاقتور کمپیوٹر سسٹمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر سے لیس ہے، جو اسے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور خود فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپ کے دفاعی نظام میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے تحت یورپی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے حصول پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
اسی تناظر میں برطانیہ اور نیٹو اتحادی شمالی بحرِ اوقیانوس میں سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے گرین لینڈ میں دلچسپی بھی جزوی طور پر ان اہم سمندری راستوں کی نگرانی سے جڑی ہوئی ہے جہاں روسی بحری جہاز اور آبدوزیں سرگرم رہتی ہیں۔ ان علاقوں میں گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان واقع سمندری حدود شامل ہیں، جو نیٹو کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں۔
رائل نیوی کا کہنا ہے کہ 60 ملین پاؤنڈ (تقریباً 80 ملین امریکی ڈالر) کی لاگت سے تیار کیا جانے والا پروٹیئس ہیلی کاپٹر شمالی بحرِ اوقیانوس میں ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے برطانیہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ ہیلی کاپٹر دفاعی اور فضائی ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی لیونارڈو نے تیار کیا ہے۔
برطانوی بحریہ کے مطابق پروٹیئس کو خاص طور پر آبدوز شکن کارروائیوں، سمندری گشت اور زیرِ آب اہداف کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر طویل دورانیے کے مشنز بغیر کسی انسانی عملے کے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے خطرناک حالات میں انسانی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے گا۔
لیونارڈو ہیلی کاپٹرز کے برطانیہ میں منیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کولمین نے کہا کہ پروٹیئس مشکل اور خطرناک حالات میں طویل مشنز انجام دے سکتا ہے، جبکہ اس دوران کسی بھی انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ برطانوی بحریہ پہلے ہی نگرانی اور دفاعی مقاصد کے لیے مختلف ڈرونز استعمال کر رہی ہے، جن میں ایک چھوٹا خودکار ہیلی کاپٹر بھی شامل ہے۔ تاہم پروٹیئس سائز میں بڑا، صلاحیت میں زیادہ طاقتور اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے کہیں زیادہ جدید قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں بحری دفاع کے نظام میں ایک اہم اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔